حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 502
حیات احمد ۵۰۲ جلد چهارم اخبار چودھویں صدی اور اُس کا بزرگ چودھویں صدی سرمور گزٹ ناہن کا دوسرا جنم تھا۔اس کے ایڈیٹر و مالک منشی سراج الدین صاحب بھیروی تھے۔وہ نہایت ذہین اور قادر القلم اخبار نویس تھے انہوں نے اپنی قلم سے سلسلہ کے خلاف کبھی کچھ نہ لکھا تھا مگر اس مضمون پر بعض فقرات اُس کے قلم سے بھی استہزائیہ نکل گئے۔بقیہ حاشیہ۔نقل اُس خط کی جو سفیر نے لاہور سے ہماری ملاقات کی درخواست کے لئے بھیجا تھا۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ـ جناب مستطاب مُعلى القاب قدوۃ المحققین قطب العارفین حضرت پیر دستگیر میرزا غلام احمد صاحب دَامَ كَرَامَاتُه چوں اوصاف جمیلہ و اخلاق حمیدہ آں ذات ملکوتی صفات در شہر لاہور بسمع ممنونیت واز مریدان سعادت انتسابان تقاریر و تصانیف عالیه آن نجسته مقام بدست احترام و ممنونیت رسید۔لہذا سودائے زیارت دیدار ساطع الانوار سوید اے شناوری را لبریز اشتیاق کرده است انشاء اللہ تعالیٰ از لاہور بطریق امرت سرائیں خاکپائے روحانیت احتوی سامی خواهم رسید و در میں خصوص تلغراف بر حضور سراسر نور مقدس خواهم کشید۔فقط حسین کا می سفیر سلطان معظم نقل اُس خط کی جو سفیر کی طرف سے ناظم الہند ۱۵ رمئی ۱۸۹۷ء میں چھپا ہے۔بحضور سید السادات العظام و فخر النجباء الكريم مولانا سید محمد ناظر حسین صاحب ناظم ادام الله فیوضه و ظلّ عاطفته - سیدی و مولائی ! التفات نامه ذات سامی شما بدست تبجیل واحترام ما رسید ( ترجمه از مرتب ) نقل اُس خط کی جو سفیر نے لاہور سے ہماری ملاقات کی درخواست کے لئے بھیجا تھا۔بسم اللہ الرحمن الرحیم جناب مستطاب معلى القاب قدوة المحققين قطب العارفین حضرت پیر دستگیر میرزا غلام احمد صاحب دام کراماته چول اوصاف جمیلہ و اخلاق حمیدہ آں ذات ملکوتی صفات۔شہر لاہور میں ممنونیت کے کانوں سے کہ آپ کے سعادت مند مریدوں سے ہوں اور آپ کی تصانیف عالیہ جو مبارک مقام ہیں احترام اور ممنونیت کے ہاتھ سے پہنچیں۔اس لئے زیارت کا جھر جھریوں کے شوق کا جذبہ پیدا ہوا۔انشاء اللہ لا ہور سے امرتسر کے راستے روحانیت کے گرد آلود پاؤں کے ساتھ پہنچوں گا اور یہ خصوصی تار حضور کی خدمت میں جو سراسر نور مقدس ہیں بھیجوں گا۔فقط حسین کا می سفیر المعظم نقل اُس خط کی جو سفیر کی طرف سے ناظم الہند ۵ ارمئی ۱۸۹۷ء میں چھپا ہے۔بحضور سید السادات العظام و فخر النجباء الكريم مولانا سید محمد ناظر حسین صاحب ناظم ادام الله فیوضه و ظلّ عاطفته سیدی ومولائی ! آپ کی بلند ذات کی طرف سے یہ التفات نامہ عزت وگرامی ہاتھوں سے ہم تک پہنچا۔