حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 499
حیات احمد ۴۹۹ جلد چهارم ایسا تھا کہ وہ تخلیہ نہ رہتا تھا۔بہر حال حسین کامی نے ملاقات کی اور وہ اپنے مقاصد میں ناکام رہا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ غصہ سے بھر کر واپس گیا۔اور لاہور جاکر اُس نے ناظم الہند نام شیعہ اخبار میں ایک گندہ خط شائع کیا۔جس پر حضرت اقدس نے ۲۴ رمئی ۱۸۹۷ء کو ایک اشتہار شائع کیا جو عظیم الشان پیشگوئیوں پر مشتمل ہے جو نہ صرف حسین کامی کی ناکامی پر مشتمل تھی بلکہ خود سلطنت ☆ ٹرکی کے انقلاب اور اس خلافت ترکیہ کے خاتمہ پر پوری ہوگئی۔چونکہ وہ اشتہار ایک عظیم الشان حاشیہ۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّيْ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ حسین کا می سفیر سلطان روم پر چه اخبار ۱۵ مئی ۱۸۹۷ء ناظم الہند لاہور میں جو ایک شیعہ اخبار ہے سفیر مذکور العنوان کا ایک خط چھپا ہے جو بالکل گندہ اور خلاف تہذیب اور انسانیت ہے اور اس خط کے عنوان میں یہ لکھا ہے کہ سفیر صاحب متواتر درخواستوں کے بعد قادیان میں تشریف لے گئے۔اور پھر متأسف اور مکڈر اور ملول خاطر واپس آئے۔اور پھر یہی ایڈیٹر لکھتا ہے کہ یہ سنا گیا تھا کہ سفیر صاحب کو اس لئے قادیان بلایا تھا کہ ان کے ہاتھ پر تو بہ کریں۔کیونکہ وہ نائب حضرت خلیفہ المسلمین ہیں۔ان افتراؤں کا بجز اس کے کیا جواب دیں کہ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ اللہ تعالیٰ اس بات پر گواہ ہے کہ مجھے دنیا داروں و منافقوں کی ملاقات سے اس قدر بیزاری اور نفرت ہے جیسا کہ نجاست سے۔مجھے نہ کچھ سلطان روم کی طرف سے حاجت ہے اور نہ اس کے کسی سفیر کی ملاقات کا شوق ہے۔میرے لئے ایک سلطان کافی ہے جو آسمان اور زمین کا حقیقی بادشاہ ہے اور امید رکھتا ہوں کہ قبل اس کے کہ کسی دوسرے کی طرف مجھے حاجت پڑے اس عالم سے گزر جاؤں۔آسمان کی بادشاہت کے آگے دنیا کی بادشاہت اس قدر بھی مرتبہ نہیں رکھتی جیسا کہ آفتاب کے مقابل پر ایک کیٹر ا مرا ہوا۔پھر جبکہ ہمارے بادشاہ کے آگے سلطان روم بیچ ہے تو اس کا سفیر کیا چیز۔میرے نزدیک واجب التعظیم اور واجب الاطاعت اور شکر گزاری کے لائق گورنمنٹ انگریزی ہے جس کے زیر سایہ امن کے ساتھ یہ آسمانی کارروائی میں کر رہا ہوں۔ترکی سلطنت آج کل تاریکی سے بھری ہوئی ہے اور وہی شامت اعمال بھگت رہی ہے۔اور ہر گز ممکن نہیں کہ اس کے زیر سایہ رہ کر ہم کسی راستی کو پھیلا سکیں۔شاید بہت سے اس فقرہ سے ناراض ہوں گے مگر یہی حق ہے۔یہی باتیں ہیں کہ سفیر مذکور کے ساتھ خلوت میں کی گئیں تھیں جو سفیر کو بُری معلوم ہوئیں۔سفیر مذکور نے خلوت کی ملاقات کے لئے خود التجا کی اور اگر چہ مجھ کو اس کی اول ملاقات میں ہی دنیا پرستی کی بدبو آئی تھی اور منافقانہ طریق دکھائی دیا تھا مگر حسن اخلاق نے مجھے بوجہ مہمان