حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 498 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 498

حیات احمد ۴۹۸ حسین کامی سفیر تر کی قادیان میں جلد چهارم ۱۸۹۷ء میں حسین کا می نام ترکی قونصل کراچی میں مقیم تھا۔سلطان روم خلیفتہ المسلمین کہلاتا تھا۔اور روئے زمین کے مسلمانوں کو خلافت کے احترام کی وجہ سے اس سے ارادت تھی۔حسین کا می اوائل مئی ۱۸۹۷ء میں لاہور آیا اور مسلمانوں نے اُن کا شاندار استقبال کیا اور وہ لا ہور میں موچی دروازہ کے باہر خان بہادر ڈپٹی برکت علی خاں مرحوم کی کوٹھی پر فروکش ہوا۔اس زمانہ میں ڈپٹی برکت علی خاں پنجاب کے مسلمانوں کے لیڈر سمجھے جاتے تھے۔احمدی جماعت کے بعض افراد محض تبلیغ کے عزم سے سفیر کے پاس گئے اور ان سے ملاقات کی وہ محض اِبْتِغَاء لِمَرْضَاتِ اللهِ گئے۔مگر انہوں نے قبل از قبل حضرت اقدس سے اجازت نہیں لی تھی۔جس کو بعد میں آپ نے پسند نہ فرمایا بہر حال حسین کامی نے اپنے مخفی ارادوں کے ماتحت حضرت اقدس کی خدمت میں ملاقات کے لئے ایک خط لکھا۔اور ۱۰ ریا ا ارمئی ۱۸۹۷ء کو نماز عشاء کے قریب قادیان پہنچا اس کے قیام و آرام کے لئے حضرت اقدس نے پہلے سے اپنے معمول مہمان نوازی کے موافق انتظام کر دیا تھا مگر چونکہ اس روز آپ دوران سر اور بر داطراف کے دورہ کی وجہ سے بیمار تھے اس سے مل نہ سکے اور دوسرے دن حسین کامی کی درخواست پر ملاقات فرمائی۔حسین کامی نے تخلیہ میں ملاقات کی خواہش کی مگر آپ نے اس کو پسند نہ فرمایا۔تخلیہ میں ملاقات لیکن اس کے بے حد اصرار پر خاطر مہمان نگہدار پر عمل کرتے ہوئے منظور فرمایا۔حضرت اقدس کی عام عادت تھی کہ آپ تخلیہ میں کسی سے ملاقات نہ کرتے تھے اور اگر کسی کے بے حد اصرار پر مبادا اس کی دشکنی نہ ہو بیت الفکر میں ملاقات فرماتے تو آپ کا طریق کلام