حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 494
حیات احمد ۴۹۴ بنگر اے قوم نشانہائے خداوند قدیر چشم بکشاد که بر چشم نشانی است کبیر آن خدائے کہ از و خلق و جہاں بیخبر اند بر من او جلوه نمود است گر اہلی بپذیر اس کتاب میں ۳۷ پیشگوئیاں درج ہیں اور آخر میں فرمایا۔وو جلد چهارم وہ لوگ ظالم اور نا سمجھ اور بے وقوف ہیں جو ایسا خیال کرتے ہیں کہ مسیح موعود اور مہدی موعود تلوار لے کر آئے گا۔نبوت کے نوشتے پکار پکار کر کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں تلواروں سے نہیں بلکہ آسمانی نشانوں سے دلوں کو فتح کیا جائے گا۔آسمانی قوتیں جس قدر اسلام میں ہیں کسی دین میں نہیں ہوئیں اسلام تلوار کا محتاج ہر گز نہیں۔“ (سراج منیر، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۸۴) حضرت خواجہ غلام فرید چشتی سے خط و کتابت اس کتاب کے آخر میں حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چشتی سجادہ نشین چاچڑاں شریف کے ساتھ جو خط و کتابت ہوئی حضرت اقدس نے اسے بھی شائع کر دیا۔میں نے اس خط و کتابت کو مکمل مکتوبات احمدیہ میں درج کر دیا ہے۔یہاں اس قدر ذکر کافی ہے کہ حضرت اقدس نے دعوتِ قوم کے عنوان سے مباہلہ کا ایک نام بنام اشتہار دیا اس میں خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو بھی مخاطب کیا جیسے دوسرے سجادہ نشینوں کو مخاطب کیا تھا۔اس کے جواب میں حضرت خواجہ صاحب نے عربی زبان میں حضرت کو خط لکھا۔اس خط کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خواجہ صاحب تقویٰ کے ایک بلند مقام پر تھے ورنہ خود ایک بڑی جماعت کے مرشد ہونے کے سبب یہاں تک کہ نواب بہاولپور بھی آپ کے حلقہ ارادت میں تھے ) یہ بجز تقویٰ کے ممکن نہ تھا۔کہ حق لے ترجمہ۔اے قوم خدائے قادر کے نشانات دیکھ، آنکھ کھول کہ تیری آنکھ کے سامنے ایک عظیم الشان نشان ہے۔ے وہ خدا جس سے مخلوق اور لوگ بے خبر ہیں اُس نے مجھ پر بجلی کی ہے۔اگر تو عقل مند ہے تو مجھے قبول کر۔