حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 490
حیات احمد ۴۹۰ جلد چهارم کیا شک ہے ماننے میں تمہیں اس مسیح کے جس کی مماثلت کو خدا نے بتا دیا اس طرح پر نجفی صاحب کی لاف و گزاف ذلت آفرین ناکامی کے ساتھ ختم ہوگئی اور وہ روپوش ہو گئے۔توسیع مہمان خانہ کی تحریک آپ کے ابتدائی ایام میں ہی آپ کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اپنے مکانات کو وسعت دو۔دور دراز جگہوں سے آپ کے پاس لوگ آئیں گے۔چنانچہ ہر نیا دن مہمانوں کی کثرت لے کر آتا بقیه حاشیه میداند که ایام کسوف آفتاب بست و ہفتم و بقیہ حاشیہ۔جانتا ہے کہ کسوف آفتاب کے ایام : ستائیں ، بست و هشتم و بست و نهم از ماه قمری می باشد و ایام خسوف اٹھائیں اور انتیس قمری مہینے کے ہیں۔اور خسوف قمر راتیں قمر سیزدهم و چهاردهم و پانزدهم در قانون قدرت مقرر تیرہ، چودہ اور پندرہ قمری مہینے کی ہیں اور یہ وقت است پس از روئے ہیئت اجتماع شاں در ساعت واحد قانون قدرت میں مقرر ہے۔پس علم ہیئت کا یہ قاعدہ چگونه ممکن است۔غرض ایں قاعدہ ہیئت شما آن امرے ایسا عجیب ہے کہ جس پر نہ ہمیں بلکہ کسی دوسرے ہیئت عجیب است نه صرف مارا بلکہ نیچ ہیئت دانے را برو دان کو بھی اطلاع نہیں ہے۔علم ہیئت کا دعویٰ کرنا خوب اطلاعے نیست۔خوب است دعوئی علم ہیئت کردن باز اور پھر اس کے خلاف کہنا بھی خوب ہے دعوئی علم اور برخلاف آن گفتن ز ہے علم وز ہے ہیئت۔ہلیت دانی کیا خوب ہے۔باید دانست که این حدیث دار قطنی است و دراں جاننا چاہیے کہ یہ حدیث دار قطنی کی ہے اور اس میں یہ این خرافات مندرج نیست که بیان کرده اند بلکہ ہمیں خرافات درج نہیں ہیں جنہیں یہ بیان کرتے ہیں۔بلکہ قدر است کہ ماہتاب در اول شب از شبہائے مقررہ خود اسی قدر ہے کہ چاند اپنی مقررہ راتوں میں سے پہلی رات کو منخسف خواهد شد و آفتاب در روز میانہ از روز گہنایا جائے گا اور آفتاب گرہن کے مقررہ دونوں میں ہائے کسوف خود منکسف خواہد گردید - و دراں دو شرط درمیانے دن گہنایا جائے گا۔اور اس میں دوشرطیں ہوں گی لازم خواهد بود۔اول اینکہ ہر دوخسوف کسوف در ماه پہلی یہ کہ چاند اور سورج دونوں کا گرہن رمضان میں ہوگا رمضان خواهد بود۔دوم اینکہ ایں ہر دو بر صدق مدعی اور دوسری یہ کہ یہ دونوں کسی مدعی مہدویت کے صدق کے مہدویت نشان خواهند بود یعنی در آن وقت ایں ہر نشان کے طور پر ہوں۔یعنی اس وقت یہ دونوں نشان ظہور دونشان بظهور خواهند آمد که تکذیب مہدی خواہد شد۔میں آئیں گے۔اس لیے کہ مہدی کی تکذیب ہوگی۔