حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 454 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 454

حیات احمد ۴۵۴ جلد چهارم کرے نہ کہ اور تمام شاخوں کو کاٹ کر صرف ایک ہی شاخ پر زور ڈال دے۔تعلیم سے مطلب تو یہ ہے کہ انسان اپنی تمام قوتوں کو حد اعتدال پر چلا کر حقیقی طور پر انسان بن جائے اور اس کی تمام قوتیں خدا تعالیٰ کے آستانہ پر کامل عبودیت کے ساتھ سر رکھ دیں اور اپنے اپنے محل اور موقعہ پر چلیں اور ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ انسان میں کوئی قوت بُری نہیں صرف ان کی بد استعمالی بُری ہے۔مثلاً حسد کی قوت کو بہت ہی بُراسمجھا جاتا ہے کیونکہ ایک حاسد دوسرے کی نعمت کا زوال چاہتا ہے اور وہ نعمت اپنے لئے پسند کرتا ہے لیکن درحقیقت غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ حسد کا اصل مفہوم بُرا نہیں کیونکہ اصل مفہوم اس قوت کا جو بد استعمالی سے بُری شکل پیدا کر لیتا ہے صرف اس قدر ہے کہ سب سے بڑھ کر قدم آگے رکھے اور اچھی باتوں میں سب سے سبقت لے جائے اور پیش قدمی کا ایسا جوش ہو جو کسی کو اپنے برابر نہ دیکھ سکے۔پس چونکہ حاسد میں سبقت کرنے کا مادہ جوش مارتا ہے لہذا ایک شخص کو ایک نعمت میں دیکھ کر یہ چاہتا ہے کہ یہ نعمت میرے لئے ہو اور دوسرا اس سے دور ہو جائے تا اس طرح پر اس کو سبقت حاصل ہوسو یہ اس پاک قوت کی بداستعمالی ہے ورنہ مجر سبقت کا جوش اپنے اندر بُرا نہیں ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ لے یعنی خیر اور بھلائی کی ہر ایک قسم میں سبقت کرو اور زور مار کر سب سے آگے چلوسو جو شخص نیک وسائل سے خیر میں سبقت کرنا چاہتا ہے وہ درحقیقت حسد کے مفہوم کو پاک صورت میں اپنے اندر رکھتا ہے۔اسی طرح تمام اخلاق رذیلہ اخلاق فاضلہ کی مسخ شدہ صورتیں ہیں۔خدا تعالیٰ نے انسان میں تمام نیک قو تیں پیدا کیں پھر بد استعمالی سے وہ بدنما ہو گئیں۔اسی طرح انتقام کی قوت بھی درحقیقت بُری نہیں ہے فقط اس کی بد استعمالی بُری ہے اور البقرة : ١٤٩