حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 453
حیات احمد ۴۵۳ جلد چهارم - انجیل ایسے وقت میں نازل ہوئی جبکہ یہود میں انتقام کشی کی عادتیں اور کینہ اور بغض حد سے بڑھ گیا تھا۔اس لئے انجیل میں عفو اور درگزر کی تعلیم ہوئی مگر یہ تعلیم نفس الامر میں عمدہ نہ تھی بلکہ نظام الہی کی دشمن تھی لہذا حقیقی تعلیم کا تلاش کرنے والا انجیل کی تعلیم پر بہت ہی شک کرے گا۔اور ممکن ہے کہ ایسے معلم کو ایک نادان اور سادہ لوح قرار دے چنانچہ یورپ کے محققوں نے ایسا ہی کہا۔مگر یاد رہے کہ اگر چہ انجیل کی تعلیم بالکل علمی اور سراسر پیچ ہے لیکن حضرت مسیح اس وجہ سے معذور ہیں کہ انجیل کی تعلیم ایک قانون دائمی اور مستمر کی طرح نہیں تھی بلکہ ایک محدود ایکٹ کی طرح تھی جو محض مختص المقام اور مختص الزماں اور مختص القوم ہوتا ہے۔یورپ کے وہ روشن دماغ محقق جنہوں نے یسوع کو نہایت درجہ کا نادان اور سادہ لوح اور علم و حکمت سے بے بہرہ قرار دیا ہے اگر وہ اس عذر پر اطلاع پاتے تو یقین تھا کہ وہ اپنی تحریروں میں کچھ نرمی کرتے لیکن مخلوق پرست لوگوں نے اور بھی اہل تحقیق کو بیزار کیا۔عزیز و! یہ زمانہ ایک ایسا زمانہ ہے کہ اس زمانہ کے محقق اور آزاد طبیعت ایک مردہ خوار کو ایسا بُرا اور قابل لعن وطعن اور حقیر نہیں سمجھتے جیسا کہ ایک مردہ پرست مشرک کو۔غرض انجیل کی ناقص اور لکھی اور بیہودہ تعلیم کو جلد تر نیست و نابود کیا جائے گا۔لہذا ایک مختصر زمانہ کے لئے جو چھ سو برس سے زیادہ نہ تھا یہ تعلیم یہودیوں کو دی گئی مگر چونکہ فی الواقع حق اور حکمت پر مبنی نہیں تھی اس لئے خدائے تعالیٰ کی کامل کتاب نے جلد نزول فرما کر دنیا کو اس بیہودہ۔۔۔تعلیم سے نجات بخشی۔یہ بات بدیہی اور صاف ہے کہ انسان اس دنیا میں بہت سے قومی لے کر آیا ہے اور تمام حیوانات کے متفرق قویٰ کا مجموعہ انسان میں پایا جاتا ہے۔اس لئے وہ دوسروں کا سردار بنایا گیا۔پس انسان کی تکمیل کے لئے وہی تعلیم حقیقی تعلیم ہے جو اس کی تمام قوتوں کی تربیت