حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 449
حیات احمد ۴۴۹ جلد چهارم مقابلہ کر کے فضیلت قرآن کریم کو ثابت کیا ہے یہ پورا مضمون پڑھنے کے قابل ہے۔قارئین کرام اصل مضمون پڑھ لیں یہاں چند اقتباس دیتا ہوں۔انجیل متی ۵ باب میں ہے کہ تم سن چکے ہو کہ کہا گیا ' آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔پر میں تمہیں کہتا ہوں کہ ظالم کا مقابلہ نہ کرنا۔اس تعلیم پر ایک صاحب خیر الدین نام عیسائی نے ڈرتے ڈرتے اعتراض کیا ہے کہ ایسے احکام اس طبعی قانون خود حفاظتی کے برخلاف ہیں جو جمیع حیوانات بلکہ پرندوں اور کیڑوں میں بھی نظر آ رہا ہے اور ثابت نہیں ہو سکتا کہ کسی زمانہ میں باستثنا ذات مسیح کے ان احکام پر کسی شخص نے عمل بھی کیا ہے۔چنانچہ یہ سوال اُن کا نورافشاں ۲۰ / دسمبر ۱۸۹۵ء میں درج ہو چکا ہے درحقیقت یہ سوال خیرالدین صاحب کا نہایت عمدہ اور کامل اور ناقص تعلیم کے لئے ایک معیار تھا مگر افسوس کہ پرچہ نورافشاں ۳/جنوری ۱۸۹۶ء میں پادری ٹھاکر داس صاحب نے اس قابل قدر اور بیش قیمت سوال کا ایسا نکتا اور بیہودہ جواب دیا ہے جس سے ایک محقق طبع انسان کو ضرور ہنسی آئے گی۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ سوال اور جواب کی کچھ حقیقت محاکمہ کے طور پر ظاہر کر کے ان لوگوں کو فائدہ پہنچاؤں جو حقیقی سچائیوں کے بھوکے اور پیاسے ہیں۔“ تبلیغ رسالت جلد ۵ صفحه ۶۶ - مجموعه اشتہارات جلد اصفحه ۵۶۱ طبع بار دوم ) پادری ٹھاکر داس نے اپنے مضمون میں قرآن مجید کا حوالہ دیا جو اس کی کج فہمی کا نتیجہ تھا۔مگر اس سے قرآن مجید کی تعلیم کا کمال ظاہر کرنے کا موقعہ حضرت کے ہاتھ آیا۔اس کے پڑھنے سے اس غیرت و محبت کا بھی اندازہ ہوتا ہے جو قرآن کریم سے آپ کو تھی۔فرماتے ہیں۔پھر پادری ٹھاکر داس صاحب نے جب دیکھا کہ انجیل کی یک طرفہ تعلیم پر در حقیقت عقل اور قانون قدرت کا سخت اعتراض ہے تو نا چار ایک غرق ہونے والے کی طرح قرآن شریف کو ہاتھ مارا ہے تا کوئی سہارا ملے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ