حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 444 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 444

حیات احمد ۴۴۴ جلد چهارم باطن اور بے ایمان اور شیطان ہے۔اور خدا اس سے بیزار اور وہ خدا سے روگرداں ہے۔اب اعتراض یہ ہے کہ جس حالت میں لعنت کی حقیقت یہ ہوئی کہ ملعون ہونے کی حالت میں انسان کے تمام تعلقات خدا سے ٹوٹ جاتے ہیں اور اس کا نفس پلید اور اس کا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی روگردانی اختیار کرتا ہے۔اور اُس میں اور شیطان میں ذرہ فرق نہیں رہتا تو اس وقت ہم حضرات پادری صاحبوں سے بکمال ادب یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا یہ سچ ہے کہ درحقیقت یہ لعنت اپنے تمام لوازم کے ساتھ جیسا کہ ذکر کیا گیا۔یسوع پر خدا تعالیٰ کی طرف سے پڑگئی تھی اور وہ خدا کی لعنت اور غضب کے نیچے آکر سیاہ دل اور خدا سے روگرداں ہو گیا تھا۔میرے نزدیک تو ایسا شخص خود لعنتی ہے کہ ایسے برگزیدہ کا نام لعنتی رکھتا ہے جو دوسرے لفظوں میں سیاہ دل اور خدا سے برگشتہ اور شیطان سیرت کہنا چاہیے۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ایسا پیارا در حقیقت اُس لعنت کے نیچے آ گیا تھا جو پوری پوری خدا کی دشمنی کے بغیر متحقق نہیں ہو سکتی۔کیونکہ لعنت کے لئے یہ بات ضروری ہے کہ خدا لعنتی انسان کا واقعی طور پر دشمن ہو جائے۔اور ایسا ہی لعنتی انسان خدا کا دشمن ہو جائے۔اور اس دشمنی کی وجہ سے بندروں اور سؤروں اور کتوں سے بدتر ہو جائے۔کیونکہ بندر وغیرہ خدا تعالیٰ کے دشمن نہیں ہیں لیکن لعنتی انسان خدا تعالی کا دشمن ہے!! یہ تو ظاہر ہے کہ کوئی لفظ اپنے لوازم سے الگ نہیں ہوسکتا جب ہم ایک کو سیاہ دل اور شیطان یا بندر اور کتا کہیں گے تو تبھی کہیں گے کہ جب شیطان اور بندروں اور کتوں کے صفات اس میں موجود ہو جائیں۔پس جبکہ تمام دنیا کے اتفاق سے لعنت کا یہی مفہوم ہے تو یہ دو باتیں ایک وقت میں کب جمع ہوسکتی ہیں کہ ایک شخص مقتضائے مفہوم لعنت خدا سے برگشتہ بھی ہو اور باخدا بھی۔اور خدا دشمن بھی ہو اور دوست بھی اور منکر بھی ہو اور اقراری بھی۔محبت کا تعلق لعنت کے مفہوم کے منافی ہے۔جبھی کہ