حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 434 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 434

حیات احمد ۴۳۴ جلد چهارم کسر صلیب کے لئے ایک جدید حربہ چونکہ آپ کی بعثت کے مقاصد میں جہاں مسلمانوں کی علمی اور عملی غلطیوں کی اصلاح کرنا بحیثیت مہدی موعود تھا اور اسلام کا ادیان باطلہ پر غلبہ ثابت کرنا تھا خصوصیت سے کسر صلیب کے لئے آپ مامور تھے اس لئے یہ عقیدہ بقیہ حاشیہ۔وہ لوگ جو شرارت سے کہتے تھے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی پیشگوئی نہیں ہوئی اور نہ کوئی نشان ظاہر ہوا؟ دیکھو! میں کہتا ہوں کہ وہ شرمندہ ہوں گے اور عنقریب وہ چھپتے پھریں گے۔اور وہ وقت آتا ہے بلکہ آگیا کہ اسلام کی سچائی کا نور منکروں کے منہ پر طمانچے مارے گا۔اور انہیں نہیں دکھائی دے گا کہ کہاں چھپیں۔یہ بھی یادر ہے کہ میں نے دو مرتبہ باوانا نک صاحب کو کشفی حالت میں دیکھا ہے اور ان کو اس بات کا اقراری پایا ہے کہ انہوں نے اُسی نور سے روشنی حاصل کی ہے۔فضولیاں اور جھوٹ بولنا مردار خواروں کا کام ہے میں وہی کہتا ہوں کہ جو میں نے دیکھا ہے اسی وجہ سے میں باوا نا نک صاحب کو عزت کی نظر سے دیکھتا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ وہ اُس چشمے سے پانی پیتے تھے جس سے ہم پیتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس معرفت سے بات کر رہا ہوں کہ جو مجھے عطا کی گئی ہے۔اب اگر آپ کو اس بات سے انکار ہے کہ باوا صاحب مسلمان تھے اور نیز آپ کو اس بات پر اصرار ہے کہ بقول آپ کے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ بد کار آدمی تھے تو میں صرف آپ پر منقولی استدلال سے اتمام حجت کرنا نہیں چاہتا۔بلکہ ایک اور طریق سے آپ پر خدا کی حجت پوری کرنا چاہتا ہوں جو آگے چل کر بیان کروں گا۔اور منقولی استدلال پر اس لئے حصر رکھنا پسند نہیں کرتا کہ بوجہ قلت استعداد یہ راہ آپ کے لئے نہایت مشکل ہے۔آپ لوگ صرف نادان پادریوں اور ایسا ہی اور بیہودہ اور نا سمجھ آدمیوں کے اعتراضات سن کر بوجہ دلی بخل کے اُن کو سچ سمجھ بیٹھے ہیں۔اور پھر بغیر تحقیق اور تفتیش کے اسلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بد زبانی شروع کر دی ہے۔میں خوب جانتا ہوں کہ اسی شتاب کاری نے جو نادانی اور تعصب کے ساتھ ملی ہوئی تھی دنیا کو تباہی میں ڈال دیا ہے اور جہالت اور مفتریا نہ روایات نے آفتاب پر تھوکنے کے لئے ان کو دلیر کر دیا ہے۔اگر آنکھیں ہوں تو کس قدر ندامت ہو۔اور اگر بصیرت ہو تو کس قدر اپنی خطا پر روویں۔اے غافلو ! وہ عزت اور شوکت جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی کیا جھوٹے کو مل سکتی ہے؟ یقینا سمجھو کہ یہ بات خدا کی خدائی پر داغ لگاتی ہے کہ دنیا میں جھوٹے نبی کو وہ دائمی عزت اور قبولیت دی جائے جو بچوں کو ملتی ہے کیونکہ