حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 409
حیات احمد ۴۰۹ جلد چهارم کی رو سے بہت مشکل امر ہے لہذا ایسا مستغیث اکثر ناکام رہتا ہے اور مخالف فتحیاب کو اور بھی تو ہین اور تحقیر کا موقعہ ملتا ہے اس لئے یہ بات بالکل سچی ہے کہ جس قدر تقریروں اور تحریروں کی رو سے مذہب اسلام کی تو ہین ہوتی ہے ابھی تک اس کا کوئی کافی تدارک قانون میں موجود نہیں۔اور دفعہ ۲۹۸ حق الامر کے ثابت کرنے کے لئے کوئی ایسا معیار اپنے ساتھ نہیں رکھتی جس سے صفائی کے ساتھ نیک نیتی اور بد نیتی میں تمیز ہو جائے۔یہی سبب ہے کہ نیک نیتی کے بہانے سے ایسی دلا زار کتابوں کی کروڑوں تک نوبت پہنچ گئی ہے لہذا ان شرائط کا ہونا ضروری ہے جو واقعی حقیقت کے کھلنے کے لئے بطور مؤید ہوں اور صحت نیت اور عدم صحت کے پر کھنے کے لئے بطور معیار کے ہوسکیں سو وہ معیار وہ دونوں شرطیں ہیں۔جو او پر گزارش کر دی گئی ہیں کیونکہ کچھ شک نہیں کہ جو شخص کوئی ایسا اعتراض کسی فریق پر کرتا ہے جو وہی اعتراض اس پر بھی اس کی الہامی کتابوں کی رو سے ہوتا ہے یا ایسا اعتراض کرتا ہے جو ان کتابوں میں نہیں پایا جاتا جن کو فریق معترض علیہ نے اپنی مسلّمہ مقبولہ کتا بیں قرار دے کر ان کے بارے میں اپنے مذہبی مخالفوں کو بذریعہ کسی چھپے ہوئے اشتہار کے مطلع کر دیا ہے تو بلاشبہ ثابت ہو جاتا ہے کہ شخص معترض نے صحت نیت کو چھوڑ دیا ہے تو اس صورت میں ایسے مکار اور فریبی لوگ جن حیلوں اور تاویلوں سے اپنی بدنیتی کو چھپانا چاہتے ہیں وہ تمام حیلے نکھے ہو جاتے ہیں اور بڑی سہولت سے حکام پر اصل حقیقت کھل جاتی ہے اور اگر چہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یاوہ گولوگوں کی زبانیں روکنے کے لئے یہ ایک کامل علاج ہے مگر اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ بہت کچھ یاوہ گوئیوں اور ناحق کے الزاموں کا اس سے علاج ہو جائے گا۔دوسری ضرورت اس قانون کے پاس ہونے کے لئے یہ ہے کہ اس بے قیدی سے ملک کی اخلاقی حالت روز بروز بگڑتی جاتی ہے۔ایک شخص سچی بات کو سن کر پھر