حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 408 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 408

حیات احمد ۴۰۸ جلد چهارم اول یہ کہ ان دنوں میں مذہبی مباحثوں کے متعلق سلسلہ تقریروں اور تحریروں کا اس قدر ترقی پذیر ہو گیا ہے اور ساتھ ہی اس کے اس قد رسخت بدزبانیوں نے ترقی کی ہے کہ دن بدن با ہمی کینے بڑھتے جاتے ہیں اور ایک زور کے ساتھ فحش گوئی اور ٹھٹھے اور ہنسی کا دریا بہہ رہا ہے اور چونکہ اہل اسلام اپنے برگزیدہ نبی اور اس مقدس کتاب کے لئے جو اس پاک نبی کی معرفت ان کو ملی نہایت ہی غیرت مند ہیں لہذا جو کچھ دوسری قو میں طرح طرح کے مفتریا نہ الفاظ اور رنگا رنگ کی پُر خیانت تحریر اور تقریر سے ان کے نبی اور ان کی آسمانی کتاب کی توہین سے ان کے دل دکھا رہے ہیں یہ ایک ایسا زخم ان کے دلوں پر ہے کہ شاید ان کے لئے اس تکلیف کے برابر دنیا میں اور کوئی بھی تکلیف نہ ہو اور اسلامی اصول ایسے مہذبانہ ہیں کہ یاوہ گوئی کے مقابل پر مسلمانوں کو یاوہ گوئی سے روکتے ہیں۔مثلاً ایک معترض جب ایک بے جا الزام مسلمانوں کے نبی علیہ السلام پر کرتا ہے اور ٹھٹھے اور ہنسی اور ایسے الفاظ سے پیش آتا ہے جو بسا اوقات گالیوں کی حد تک پہنچ جاتے ہیں تو اہل اسلام اس کے مقابل پر اس کے پیغمبر اور مقتدا کو کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ اگر وہ پیغمبر اسرائیلی نبیوں میں سے ہے تو ہر یک مسلمان اس نبی سے ایسا ہی پیار کرتا ہے جیسا کہ اس کا فریق مخالف وجہ یہ کہ مسلمان تمام اسرائیلی نبیوں پر ایمان رکھتے ہیں اور دوسری قوموں کی نسبت بھی وہ جلدی نہیں کرتے کیونکہ انہیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کوئی ایسا آباد ملک نہیں جس میں کوئی مصلح نہیں گزرا۔اس لئے کہ گذشتہ نبیوں کی نسبت خاص کر اگر وہ اسرائیلی ہوں ایک مسلمان ہرگز بد زبانی نہیں کر سکتا بلکہ اسرائیلی نبیوں پر تو وہ ایسا ہی ایمان رکھتا ہے جیسا کہ نبی آخر الزمان کی نبوت پر۔تو اس صورت میں وہ گالی کا گالی کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتا۔ہاں جب بہت دکھ اٹھاتا ہے تو قانون کی رو سے چارہ جوئی کرنا چاہتا ہے مگر قانونی تدارک بد نیتی کے ثابت کرنے پر موقوف ہے جس کا ثابت کرنا موجودہ قانون