حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 391 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 391

حیات احمد ۳۹۱ جلد چهارم ہو گیا۔کیوں کہ بعد میں ان مسودات کا پتہ نہیں چلتا۔یہ بیان اصلاح طلب ہے یہ مسودات خواجہ صاحب مکرم ہی کی تحویل میں تھے اور کچھ شک نہیں کہ وہ نہایت سرگرمی سے اس تحقیق میں حصہ لے رہے تھے اور وہ مسودات اپنے ساتھ لے گئے تھے۔اگر وہ گم ہوئے تو وہاں بچ گئے تو وہاں۔مکرم خواجہ صاحب کا کارنامہ بہر حال اسی اساس پر مکرم خواجہ صاحب نے ۱۹۱۵ء میں اُمُّ الْأَلْسِنَہ کے نام سے ایک کتاب شائع کی مکرم خواجہ صاحب کا یہ کارنامہ گو تکمیل طلب اور ناقص ہومگر اس میں کچھ شک نہیں کہ ہر طرح قابل احترام ہے۔مکرم خواجہ صاحب نے ۱۹۱۴ء میں خلافتِ ثانیہ کے عہد میں اختلاف کیا اس اختلاف کے لئے وہ خود عند اللہ مسئول ہیں ان کے مرنے کے بعد محض کسی مذہبی مسئلہ میں اختلافات کی وجہ سے ان کی قربانیوں اور خدمات کو ہمیں بھول نہیں جانا چاہیے خصوصاً جبکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اپنے مرے ہوؤں کی حسنات کا ذکر کیا کرو۔اس اختلافی جنگ میں میں صف اول میں کھڑا ہورہا ہوں اور ان کی زندگی میں میرے قلم سے دفاعی یا اقدامی رنگ میں کچھ بھی نکلا ہو اس میں کینہ یا کسی غرض فاسد کا دخل نہ تھا ایسا ہی انہوں نے جو کچھ کہا ہو میں اسے کسی بدنیتی پر محمول نہیں کرتا۔خواجہ صاحب نے ادھوری ہی سہی کوشش کی کہ اپنے اور ہمارے آقا کے ایک کام کو تکمیل کے قریب کریں۔اور وہ ایسا کام تھا جو قرآن کریم کی عظمت و صداقت کا مظہر تھا۔مکرم خواجہ صاحب اپنی نیت کے موافق ضرور ماجور ہوں گے۔تکمیل کی دوسری منزل خواجہ صاحب مکرم کے بعد پھر کسی کو یہ ہمت نہ ہوئی کہ اس کام کو مکمل کریں۔خود راقم الحروف نے بارہا دوستوں کو توجہ دلائی مگر میری آواز صدا بہ صحرا ہوکر رہ گئی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے