حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 390 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 390

حیات احمد ۳۹۰ جلد چهارم آنی چاہیے جبکہ تحقیق السنہ کی کتاب چھپ کر شائع ہو جائے اور جمع کرانے والے کو اس امر کے بارے میں ایک تحریری اقرار دینا ہوگا کہ اگر وہ پانچ ہزار روپیہ جمع کرانے کے بعد مقابلہ سے گریز کر جائے یا اپنی لاف و گزاف کو انجام تک پہنچا نہ سکے تو وہ تمام حرجہ ادا کرے جو ایک تجارتی روپیہ کے لئے کسی مدت تک بند رہنے کی حالت میں ضروری الوقوع ہے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى انعامی چیلنج ضیاء الحق ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۲۵۰ ۳۲۰ تا ۳۲۲- زیر عنوان اشتهار کتاب من الرحمن ) اس اشتہار کے آخری حصہ میں بھی پانچ ہزار کا انعامی چیلنج ہے مگر اس پر اب قریباً ساٹھ سال گزرتے ہیں۔اور اپنی مذہبی زبان (سنسکرت) اُم الالسنه کہنے والوں میں سے کسی کو توفیق نہ ملی کہ وہ اس چیلنج کو قبول کرتا اور جن اصولوں کے مد نظر عربی زبان کے اُم الالسنه ہونے کا ثبوت پیش کیا گیا ہے اسی نہج پر وہ اپنی مسلمہ زبان کو ام الالسنه ثابت کر دکھاتا۔ایک علمی زندگی کا عہد عربی زبان کے اُم الالسنہ ہونے کے اعلان کے ساتھ جماعت احمدیہ کے تعلیم یافتہ نو جوانوں میں ایک جوش پیدا ہو گیا اور قادیان ایک علمی ریسرچ کا میدان بن گیا۔حضرت اقدس عربی زبان کے مفردات کو پیش کرتے اور دوسرے نوجوان تعلیم یافتہ انگریزی اور دوسری زبانوں کے الفاظ کو جمع کرتے۔اس تحقیقاتی دور میں ایک مخلصانہ روح کام کرتی نظر آتی تھی۔مختلف زبانوں کے مفردات جمع کئے جاتے اور ان کی فہرستیں تیار کی جاتیں۔اور یہ تمام مواد مکرم خواجہ کمال الدین صاحب غَفَرَ اللَّهُ لَہ کے پاس محفوظ کیا جاتا تھا۔مکرم ڈاکٹر بشارت احمد صاحب نے اپنی تالیف میں ذکر کیا ہے کہ حضرت کی توجہ کو دوسرے امور کی طرف جذب کر لیا اور وہ مسودے اور ذخیرہ مفردات نہ معلوم کہاں گیا۔اغلب یہی ہے کہ ضائع