حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 367
حیات احمد جلد چهارم کے لئے دعائیں کرتا تھا۔یہ کیا واقعہ پیش آیا کہ آسمان بھی مجھے عزت دینے کے لئے جھکا کیا تم میں ایک بھی سوچنے والا نہیں جو اس بات کو سوچے کیا تم میں ایک بھی دل نہیں جو اس بات کو سمجھے۔زمین نے عزت دی۔آسمان نے عزت دی اور قبولیت پھیل گئی۔پانچواں وہ امر جو مباہلہ کے بعد میرے لئے عزت کا موجب ہوا۔علم قرآن میں اتمام حجت ہے۔میں نے علم پا کر تمام مخالفوں کو کیا عبدالحق کا گروہ۔اور کیا بطالوی کا گروہ غرض سب کو بلند آواز سے اس بات کے لئے مدعو کیا کہ مجھے علم حقائق اور معارف قرآن دیا گیا ہے۔تم لوگوں میں سے کسی کی مجال نہیں میرے مقابل پر قرآن شریف کے حقائق و معارف بیان کر سکے۔سو اس اعلان کے بعد میرے مقابل ان میں سے کوئی بھی نہ آیا۔اور اپنی جہالت پر جو تمام ذلتوں کی جڑ ہے انہوں نے مہر لگادی۔سو یہ سب کچھ مباہلہ کے بعد ہوا۔اور اسی زمانہ میں کتاب کرامات الصادقین لکھی گئی۔اس کرامت کے مقابل پر کوئی شخص ایک حرف بھی نہ لکھ سکا۔تو کیا اب تک عبد الحق اور اس کی جماعت ذلیل نہ ہوئی اور کیا اب تک یہ ثابت نہ ہوا کہ مباہلہ کے بعد یہ عزت خدا نے مجھ کو دی۔چھٹا امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت اور عبدالحق کی ذلت کا موجب ہوا یہ ہے کہ عبدالحق نے مباہلہ کے بعد اشتہار دیا تھا کہ ایک فرزند اس کے گھر میں پیدا ہوگا۔اور میں نے بھی خدا تعالیٰ سے الہام پا کر یہ اشتہار انوار الاسلام میں شائع کیا تھا کہ خدا تعالیٰ مجھے لڑکا عطا کرے گا۔سوخدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے میرے گھر میں لڑکا پیدا ہو گیا جس کا نام شریف احمد ہے اور قریباً پونے دو برس کی عمر رکھتا ہے۔اب عبد الحق کو ضرور پوچھنا چاہیے کہ اس کا وہ مباہلہ کی برکت کا لڑکا کہاں گیا۔کیا اندر ہی اندر پیٹ میں تحلیل پا گیا یا پھر رجعت قہقری کر کے نطفہ بن گیا۔کیا اس کے سوا کسی