حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 357 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 357

حیات احمد ۳۵۷ جلد چهارم اپنے ہاتھوں سے آپ پیدا کیا انصافاً وقانوناً تمہارے ہی ذمہ ہے سو اس کا تصفیہ یوں ہے کہ اگر وہ خوف جس کا تمہیں خود اقرار ہے اسلام کی عظمت سے نہیں تھا بلکہ کسی اور وجہ سے تھا تو تم قسم کھا جاؤ اور اس قسم پر تمہیں چار ہزار روپیہ نقد ملے گا۔اور ایک سال گزرنے کے بعد اگر تم سالم رہ گئے تو وہ سب روپیہ تمہارا ہی ہو جائے گا لیکن اس نے ہر گرفتم نہ کھائی میں نے اُس کو اُس کے خدا کی بھی قسم دی مگر حق کی ہیبت کچھ ایسی دل پر بیٹھ گئی تھی کہ اس طرف منہ کرنا بھی اس کوموت کے برابر تھا۔میں نے اس پر یہ بھی ثابت کر دیا کہ عیسائی مذہب میں کسی نزاع کے فیصلہ کرنے کے لئے قسم کھانا منع نہیں بلکہ ضروری ہے مگر آتھم نے ذرہ توجہ نہ کی اب ایمانا سوچو کہ یہ امر تنقیح طلب جو سچی رائے ظاہر کرنے کا مدار تھا کس کے حق میں فیصلہ ہوا اور کون بھاگ گیا۔“ (ضیاء الحق ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۱۱ تا ۳۱۵) غرض یہ سلسلہ اس طرح پر چلتا رہا یہاں تک کہ آخر کتمان حق کی پاداش میں اللہ تعالیٰ کے اس دیئے ہوئے وعدے کے موافق جو چار ہزاری اشتہار میں کیا گیا تھا حضرت کے آخری اشتہار ۳۰ دسمبر ۱۸۹۵ء کے صرف سات ماہ کے اندر ۲۷ / جولائی ۱۸۹۶ء کو بمقام فیروز پور آتھم فوت ہو گیا۔اس پر حضرت نے انجام آتھم نامی کتاب شائع کی جس میں خلاصہ اس پیشگوئی کی عظمت اور اس کے پُرشوکت ہونے کے متعلق تفصیل سے بحث کی۔قارئین کرام اس کو غور سے پڑھیں گے تو انہیں نہ صرف پیشگوئی کے متعلق تمام پہلو نظر آئیں گے بلکہ قرآن کریم کے حقایق و معارف، انذاری پیشگوئیوں کے متعلق سنت اللہ ، مختلف معترضین کے اعتراضات کا جواب، موجودہ عیسویت کے عقاید تثلیث وغیرہ کی معقولی تردید بھی پڑھیں گے۔میں صرف پیشگوئی کے سلسلہ میں اس کے چند اقتباس دیتا ہوں۔