حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 356
حیات احمد ۳۵۶ جلد چهارم نے اپنے اشتہاروں میں شائع کئے ہیں تب بھی وہ ضرور ایک سال تک مرجائے گا۔اور جبکہ ہم نے ایسا اشتہار کوئی شائع نہیں کیا بلکہ اس کا سال کے اندر فوت ہو جانا تم کے ساتھ مشروط رکھا تھا۔پس اس صورت میں تو اس کے ایک سال تک نہ مرنے کی وجہ سے ہماری ہی سچائی ثابت ہوئی کیونکہ اس نے اپنی اس گریز سے جو رجوع الی الحق پر ایک واضح دلیل تھی کھلا کھلا فائدہ اٹھالیا۔یہ الزام تو اس وقت زیبا تھا کہ وہ ہمارے مقابل پر میدان میں آکر اس قسم کو بِالْفَاظِہ کھالیتا جو ہم نے پیش کی تھی اور پھر سال کے اندر فوت نہ ہوتا ہم نے چار ہزار روپیہ پیش کر کے صاف صاف یہ کہہ دیا تھا کہ آتھم صاحب شرطی روپیہ پہلے جمع کرالیں اور جلسہ عام میں تین مرتبہ یہ قتسم کھاویں کہ پیش گوئی کے دنوں میں ہرگز میں نے اسلام کی طرف رجوع نہیں کیا اور ہرگز اسلام کی عظمت میرے دل پر مؤثر نہیں ہوئی اور اگر میں جھوٹ کہتا ہوں تو اے قادر خدا ایک سال تک مجھ کو موت دے کر میرا جھوٹ لوگوں پر ظاہر کر۔یہ مضمون تھا جو ہم نے نہ ایک مرتبہ بلکہ کئی مرتبہ شائع کیا اور ہم نے ایک ہزار سے چار ہزار تک انعام کی نوبت پہنچائی اور کئی دفعہ کہہ دیا تھا کہ یہ زبانی دعوی نہیں پہلے روپیہ جمع کرالو اور پھر قسم کھاؤ اور اگر ہم روپیہ داخل نہ کریں اور صرف فضول گوئی ثابت ہو تو پھر ہمارے جھوٹے ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی حاجت نہیں۔لیکن کوئی ہمیں سمجھا دے کہ آتھم نے ان باتوں کا کیا جواب دیا۔مگر ہم نے صرف اس قریبی ثبوت پر اکتفا نہ کیا بلکہ متواتر چار اشتہار مع انعام رقم کثیر کے جاری کئے اور ان میں لکھا کہ وہ قرائن جو تم نے آپ ہی اپنے افعال اور اقوال اور حرکات سے پیدا کئے تمہیں اس امر کا ملزم کرتے ہیں کہ تم ضرور عظمت اسلامی سے ڈر کر اس شرط کو پورا کرنے والے ٹھہرے جو پیشگوئی میں درج تھی پھر اگر تم سے بہت ہی نرمی کریں اور فرض کے طور پر ثابت امر کو مشتبہ تصور کر لیں تب بھی اس اشتباہ کا دور کرنا جو تم نے