حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 352 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 352

حیات احمد ۳۵۲ جلد چهارم لے آویں قالین اور شطرنجی والے سے کہہ دیں کہ صرف تین چار روز تک ان چیزوں کی ضرورت ہوگی۔اور پھر ساتھ واپس لے آویں گے۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ۱۹؍ دسمبر ۱۸۹۴ء ( مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر سوم صفحہ ۱۳۳۔مکتوبات احمد جلد دوم صفحه ۶۱۱ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) غرض یہ جلسہ اپنی مقررہ تاریخوں پر ہوا۔اور علم و عرفان کی مجلسیں قائم ہوئیں اور حقایق و معارف قرآنیہ پر مشتمل حضرت اقدس کی تقریریں ہوتی رہیں اور اس جلسہ میں ۱۸۹۲ء کے جلسہ سے بھی زیادہ لوگ شریک ہوئے۔انجام آتھم اور فتح اسلام آتھم کے قسم نہ کھانے پر یہ مباہلہ ختم نہیں ہو گیا۔اگر چہ آتھم صاحب تو خاموش ہو گئے مگر بعض علمائے مکفرین اور بعض عیسائی مختلف قسم کے اعتراضات کرتے رہے اور حضرت اقدس ہر قسم کے اعتراضات کے جوابات شائع کرتے رہے یہاں تک کہ دسمبر ۱۸۹۵ء کے آخری ایام میں جب کہ سالانہ جلسہ کے لئے احباب قادیان آرہے تھے حضرت مولوی عبدالکریم رحمۃ اللہ علیہ کی اتفاقیہ ملاقات پادری فتح مسیح ساکن فتح گڑھ چوڑیاں سے بٹالہ اسٹیشن پر ہوگئی۔اور اس نے کہا کہ آتھم نے قسم کھانے سے انکار اس لئے کیا کہ یہ جماعت حقیر اور ذلیل ہے۔اب تک تو آتھم کے قسم نہ کھانے پر عیسائی اور ان کے ہم خیال مکفرین مسلمان یہ کہتے تھے کہ عیسائی مذہب میں قسم کھانا جائز نہیں جب اس کا جواب ان کی بائبل سے دیا گیا تو اب یہ نیا پینترا بدلا۔اس پر حضرت اقدس نے ۳۰ دسمبر کو ایک اشتہار شائع کیا جس میں ان تمام سابقہ واقعات کو دوہراتے ہوئے لکھا کہ اب اس اشتہار کے شائع کرنے کا یہ موجب ہے کہ ہمارے ایک مخلص