حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 326
حیات احمد ۳۲۶ جلد چهارم کیا کہ ان ممالک میں تبلیغ و تبشیر اسلام کی از بس ضرورت ہے۔اور جس خواہش کو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق پورا کر دیا آج جب کہ میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تمام دنیا میں تبلیغ اسلام کے مشن آپ کی جماعت نے قائم کر دیئے ہیں۔اور ہزاروں روحیں مختلف ممالک میں اسلام میں داخل ہورہی ہیں۔اور مغربی اقوام کا نقطہ نظر اسلام کے متعلق بدل رہا ہے۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ غرض نور الحق، کرامات الصادقین اور سر الخلافۃ اور لفظ قمر کے متعلق جو انعامی تحدی کی گئی تھی وہ بدستور لا جواب رہی اور غلام احمد کی جے ہوئی۔آتھم کی پیشگوئی اور موجود زمانہ میں اس کا طرز عمل آتھم کے متعلق جو پیشگوئی کی گئی تھی وہ قارئین کرام پڑھ چکے ہیں ۵ ستمبر ۱۸۹۴ ء اس کی آخری میعاد تھی آتھم کے قلب پر دہشت اور اس کا اثر اُسی وقت شروع ہو گیا تھا جب مباحثہ کے آخری دن اس پیشگوئی کو سن کر اس نے اپنے متفکر چہرہ اور زبان نکال کر اپنی حرکات اور بیان سے ظاہر کیا۔اس کے بعد اس کا اثر ہر روز اس پر غالب آتا رہا۔اور میں نے ایک شاہد عینی کی حیثیت سے دیکھا اور اس کے منہ سے سنا۔پھر دوران پیشگوئی میں اس نے اپنی زبان قلم کو جو اسلام کے خلاف کھلی رہتی تھی بند کر دیا۔اس اثنا میں اس نے کسی قسم کی تحریر شائع نہیں کی اور آخر اس پر ایسی دہشت کا غلبہ ہوا کہ وہ بے اختیار اپنی زبان سے اور اپنے حرکات سے اس خوف کا اظہار کرنے لگا۔تب اس کے عزیز و اقربا نے یہ مشورہ کیا کہ اسے امرت سر سے لودھانہ اور فیروز پور منتقل کیا جائے۔جہاں اُس کے داماد تھے۔لودہا نہ میں مسٹر لوئیس ڈسٹرکٹ جج اس کے داماد تھے۔اور فیروز پور میں مسٹر میاد اس ڈسٹرکٹ حج خطرناک مشاہدات اس دہشت کا اثر یہ ہوا کہ مسٹر آئھم کو بعض اوقات تلوار میں اور نیزے لئے ہوئے حملہ آور نظر آتے اور وہ شور مچاتا اور بعض اوقات وہ کہتا کہ سانپ کو سکھلا کر میرے ڈسنے کو بھیجا گیا اور کبھی