حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 325 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 325

حیات احمد ۳۲۵ جلد چهارم کے ذکر میں یہ پیشگوئی اسلامی لٹریچر میں موجود تھی۔اور ان علماء کی شائع کردہ کتابوں میں جنہوں نے کفر کا فتویٰ دیا۔لیکن جب یہ نشان علماء کی مخالفت پورا ہوا تو بعض علماء نے اپنی مجلسوں میں تأسف کے ساتھ ذکر کیا کہ اس نشان کو دیکھ کر بہت سے لوگ گمراہ ہوں گے یعنی حضرت مسیح موعود کی صداقت کے قائل ہو جائیں گے۔اس نشان کا جب اعلان ہوا تو مخالفین و مکذبین نے لوگوں کو یہ مغالطہ دینا چاہا کہ یہ چاند گرہن تو پہلی تاریخ کو ہونا چاہیے تھا۔اس اعتراض نے ان کے علمی دیوالیہ پن کو ننگا کر دیا۔انعامی چیلنج حضرت اقدس نے اعلان کیا کہ اگر کوئی مولوی عربی زبان میں قمر کے لفظ کا اطلاق پہلی رات کے چاند پر دکھا دے تو اس کو ایک ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔پہلی رات کا چاند تو هلال کہلاتا ہے اور یہاں قمر ہے۔علاوہ بریں چاند گرہن ہمیشہ درمیانی راتوں میں سے کسی رات کو واقع ہوتا ہے کیونکہ علم ہیئت کی رو سے چاند گرہن کی یہی تاریخیں ہوسکتی ہیں۔ایسا ہی سورج گرہن کی تاریخیں مقرر ہیں۔مجھے یہاں کسوف و خسوف کے متعلق علمی بحث نہیں کرنی ہے۔صرف اس قدر ہی بیان کرنا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ۱۸۹۴ء میں یہ سماوی نشان آپ کی صداقت کے اظہار پر ظاہر فرمایا۔مخالفین نے جو اعتراضات کئے ان کے جوابات نور الحق حصہ دوم میں بزبان عربی بڑی وضاحت سے دیئے ہیں۔نور الحق حصہ دوم آپ نے ۱۸ مئی ۱۸۹۶ء کو شائع کیا۔اس میں صرف ان معترضین کا جواب ہی نہیں جو اس نشان سماوی پر معترض تھے۔دراصل حضرت نے اپنے دعوی کے ثبوت میں یہ رسالہ لکھا اور ضمناً اس کا بھی ذکر آیا کہ یہ آپ کی سچائی کی دلیل ہے۔اور بالآخر مغربی اقوام کے حقیقت اسلام سے بے خبر ہونے کا ذکر کر کے اس مقصد کا اظہار