حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 307
حیات احمد ۳۰۷ جلد چهارم نہایت اعلیٰ درجہ کے عالم دین محمدی تھے۔اور بڑے فاضل مولوی ہیں۔اور باعث متجر علمی حق پہنچتا ہے کہ قرآن شریف کی بلاغت فصاحت پر نکتہ چینی کریں اور اس کے اعلی شان سے انکاری ہوں۔رسول اللہ صلعم کو گالیاں نکالیں۔ٹھٹھا کریں اور برے برے نادانی کے نام رکھیں اور استاد بن کر آنحضرت صلعم کی عربی دانی کے نقص نکالیں۔اس لئے میں نے ان دنوں ایک رسالہ عربی میں لکھا ہے جس کا نام نورالحق رکھا ہے۔اس رسالہ میں کچھ کچھ فضائل قرآن شریف اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے اور بعض اعتراضات توزین الاقوال کارڈ ہے۔اور اس کے بین السطور میں اردو تر جمہ ہے۔یہ رسالہ محض پادری عماد الدین کی عربی دانی اور مولویت کے آزمانے کے لئے اور نیز ان کے دوسرے مولویوں کے پر کھنے کے لئے تالیف کیا ہے اور اس میں یہ بیان ہے کہ اگر پادری عمادالدین صاحب اور ان کے دوسرے دوست جن کے نام ان کی فہرست میں اور نیز اس رسالہ میں بھی موجود ہیں حقیقت میں مولوی ہیں۔اور اسلام کے ان اعلیٰ درجہ کے فاضلوں میں سے ہیں جو عیسائی ہو گئے تو ان کو چاہیے کہ خواہ جدا جدا اور خواہ اکھٹے ہو کر اس رسالہ کا جواب اسی حجم اور ضخامت کے لحاظ سے ویسی ہی عربی بلیغ فصیح میں لکھیں۔جس طرح پر یہ رسالہ لکھا گیا ہے اور اس میں اسی قدر عربی اشعار بھی اپنے طبع زاد درج کریں۔جیسا کہ ہمارے اس رسالہ میں لکھے گئے ہیں۔اگر انہوں نے عرصہ دو ماہ تک ہمارے رسالہ کی اشاعت سے ایسا کر دکھایا اور خود گورنمنٹ کی منصفی سے یا اگر گورنمنٹ منظور نہ کرے تو برضا مندی طرفین لے حاشیہ۔یہ رسالہ صرف چند روز میں بغیر کسی غور اور سوچ کے لکھا گیا ہے۔کیونکہ وقت میں گنجائش نہ تھی۔تا ہم پادری صاحبوں کی عربی دانی کے لئے اسی قدر کافی ہے۔منہ کے حاشیہ۔ہمارے رسالہ کے بالمقابل رسالہ اسی قدر اور انہی لوازم کے لحاظ سے لکھنا درحقیقت چار روز سے کچھ زیادہ کام نہیں۔لیکن ہم نے اتمام حجت کی غرض سے دو ماہ کی مہلت دی ہے۔ایک مہینہ تالیف کے لئے اور ایک مہینہ چھاپنے اور شائع کرنے کے لئے اس لئے اس عرصہ میں چھاپ کر شائع کرنے کی شرط ضروری ہے۔منہ