حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 299
حیات احمد ۲۹۹ جلد چهارم وقت مطلقاً مرزا صاحب کا تصور نہ تھا اور انہوں نے کہا کہ لاشک و لا ریب جناب مستطاب حضرت مرزا صاحب دَامَ فَيْضُ ایسے عالی منزلت کے بزرگ ہیں کہ شاید کوئی شخص تختہ ء ہند میں ہو اور میرا گمان یہ ہے کہ تمام عالم میں کوئی نہیں ہے جسے پیا چاہے وہی سہاگن آپ کے سب احباب کو سلام۔احمد حسین صوفی عفی عنہ ۸ / فروری ذی القعده ۱۳۱۰ روز سه شنبه مکرم خواجہ کمال الدین صاحب حلقہ بیعت میں اسی سال مکرم خواجہ کمال الدین صاحب بی۔اے سلسلہ بیعت میں داخل ہوئے ۱۸۹۳ء کے انجمن حمایت اسلام کے جلسہ میں حضرت حکیم الامت خلیفہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کی تقریر سے وہ بے حد متاثر ہوئے۔وہ فورمین کرسچین کالج لاہور کے طالب علم تھے۔اور پادری یورنگ ( جو کالج کے پرنسپل تھے) سے گہرا تعلق رکھتے تھے اور قریب تھا کہ وہ عیسائی ہو جاتے اور خود پرنسپل کو یقین تھا۔مگر حضرت کی کتاب براہین احمدیہ نے اس مردہ کو زندہ کر دیا اور آخر وہ سلسلہ میں داخل ہوئے۔ان کی خدمات اور قربانیوں کا انکار کرنا میں ایک گناہ سمجھتا ہوں راقم الحروف سے اکثر باتوں میں ان کا اختلاف ہوتا۔مجھے اُن کے ساتھ صدرانجمن میں کام کرنے کا موقع ملا۔وہ سلسلہ میں اخلاص اور عقیدت کے ساتھ آئے اور اس کی خدمت کے لئے انہوں نے اپنے اوقات اور روزگار کی قربانی سے دریغ نہ کیا۔مقدمات کے دوران میں ان کی نسبت حسن بیان کا الہام حضرت اقدس کو ہوا۔اور مقدمہ کی بحث کے وقت اور اس کے بعد تقاریر میں پورا ہوتا رہا۔وہ کنگ مشن انہوں نے قائم کیا۔اور جماعت نے سر پرستی کی خلافت ثانیہ میں انہوں نے اختلاف کیا۔اور جماعت لاہور کے ساتھ شریک ہو گئے۔اور اسی سلسلہ میں فوت ہو گئے۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔اور اپنے فضل و رحم سے نوازے۔