حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 292
حیات احمد ۲۹۲ جلد چهارم انجمن حمایت اسلام لاہور کے لئے کچھ چندہ بھی ہوا۔میرے ساتھ جو صاحب تشریف لے گئے وہ مرزا صاحب کے دعوئی الہام کی وجہ سے سخت مخالف تھے اور میرے سامنے انہوں نے جناب مرزا صاحب سے اپنی سابق کی بدگمانی کی معذرت کی۔مرزا صاحب کی مہمان نوازی کو دیکھ کر مجھ کو بہت تعجب سا گزرا۔ایک چھوٹی سی بات لکھتا ہوں جس سے سامعین ان کی مہمان نوازی کا اندازہ کر سکتے ہیں۔مجھ کو پان کھانے کی بُری عادت تھی۔امرت سر میں تو مجھے پان ملا لیکن بٹالہ میں مجھ کو پان کہیں نہ ملا ناچار الا چی وغیرہ کھا کر صبر کیا۔میرے امرت سر کے دوست نے کمال کیا کہ حضرت مرزا صاحب سے نہ معلوم کس وقت میری اِس بُری عادت کا تذکرہ کر دیا۔جناب مرزا صاحب نے گورداسپور ایک آدمی کو روانہ کیا۔دوسرے دن گیارہ بجے دن کے جب کھانا کھایا تو پان موجود پایا۔سولہ کوس سے پان میرے لئے منگوایا گیا تھا۔مرزا صاحب نے مجھ کو الگزنڈر ویب صاحب کا خط دکھایا میں نے اس انگریزی خط کو پڑھا اس خط میں ویب صاحب نے اپنے تحقیقات دینی کے جوش کو ظاہر کیا تھا۔اور لکھا تھا کہ ” میں نے ترک حیوانات کر دیا ہے۔میں نے مرزا صاحب سے کچھ دینی باتیں پوچھی تھیں۔قادیان کے رہنے والوں سے بھی ملا۔حتی کہ مرزا صاحب کے ایک سخت مخالف سے ملا جو غالبا ان کے چچا تھے یا کون۔میں نے بوڑھے میاں سے سوال کیا کہ آپ مرزا صاحب کو کیسا سمجھتے ہیں۔تو اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ ہم اس کے دعوی الہام کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔لیکن ایک بات ضرور کہیں گے کہ یہ لڑکا ( یعنی جناب مرزا صاحب شروع سے ہی نیک چلن تھا۔اور کتابوں کے پڑھنے کا اس کو بہت شوق تھا۔اور عبادت الہی کا اس کو بچپن ہی سے ذوق تھا) غرض میں مرزا صاحب سے رخصت ہوا۔چلتے وقت انہوں نے اس کمترین کو براہین احمدیہ اور سُرمہ چشم آریہ کی ایک ایک جلد عنایت کی ، انہیں میں نے پڑھا ان کے پڑھنے سے مجھ کو معلوم ہوا کہ جناب مرزا صاحب بہت بڑے رتبے کے مصنف ہیں۔خاص کر براہین احمدیہ میں سورہ فاتحہ کی تفسیر دیکھ کر مجھے کو کمال درجہ کی حیرت مرزا صاحب کی ذہانت پر ہوئی۔الہامات جو میں نے براہین احمدیہ میں دیکھے ان پر مجھ کو یقین نہ ہوا۔لیکن چونکہ میں مرزا صاحب کو