حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 286
حیات احمد ۲۸۶ جلد چهارم اور آپ کا با قاعدہ پانچوں نمازوں میں باجماعت نماز میں شریک ہونا۔تہجد کے لئے مستقلاً اٹھنا۔اور دعاؤں کے لئے ایک خاص وقت مقرر کرنا اور خانہ داری کے فرائض بھی ادا کرنا۔ان تمام امور کو دیکھتے ہوئے اگر تصانیف کا یہ کارنامہ اعجاز نہیں تو کیا ہے۔غرض اس طرح پر ایک مصروف زندگی میں یہ سال ۱۸۹۳ء ختم ہوا۔اگر چہ سالانہ جلسہ کے التوا کا اعلان ہو چکا تھا تا ہم بعض خاص احباب خصوصاً ملازم پیشہ اپنی رخصتوں سے استفادہ کرتے ہوئے قادیان میں جمع ہو گئے۔۱۸۹۴ء کے واقعات اور حالات میری زندگی میں نیا انقلاب جس طرح پر ۱۸۹۳ء میں میری زندگی میں ایک انقلاب آیا ۱۸۹۴ء میں ایک دوسرا انقلاب پیدا ہوا۔میں محکمہ نہر میں نائب ضلعدار مقرر ہو کر ڈ ہنڈ کیل (ضلع امرت سر ) میں مامور ہو چکا تھا۔یہ وہ علاقہ ہے جس نے سلسلہ کو دو قیمتی رتن دیئے۔حضرت بھائی عبدالکریم صاحب (سابق جگت سنگھ ) سَلَّمَهُ اللهُ تَعَالیٰ اور سردار محمد یوسف صاحب (سابق سورن سنگھ ) ایڈیٹر نور رضی اللہ عنہ میری اس ماموری پر مولوی مولوی محمد حسین بٹالوی نے بھی اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں ایک مخالفانہ نوٹ لکھا۔میرے لئے آئندہ ترقی کی راہیں کھلی تھیں۔میں خودستائی کے طور پر نہیں امر واقعہ کے طور پر کہتا ہوں۔میرے آفیسر میرے متعلق بہترین خیالات رکھتے تھے مگر مشیت ایز دی کچھ اور تھی میرے سامنے ایک رشوت ستانی کا واقعہ پیش آیا۔مجھے ایک ہزار کی رشوت پیش کی گئی کہ میں ایک خلاف ضابطہ امر کی تائید کروں مگر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اس پیشکش کو ٹھکرانے کی ہمت دی محکمہ میں رشوت کا بازار گرم تھا۔بعض افسر و علی العموم ما تحت کھلے بندوں لیتے تھے ایسی حالت میں میرے لئے ممکن نہ تھا کہ میں دیانت داری سے کام کرسکوں۔اس لئے میں نے بظاہر اپنے مستقبل کے تمام سنہرے خوابوں کی دنیا کو ترک کر دینے کا عزم کر لیا۔اور استعفیٰ