حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 271 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 271

حیات احمد ۲۷۱ جلد چهارم کے شائع ہو جانے کے بعد جو سید عبدالرزاق صاحب کو بذریعہ رجسٹری بھیجا گیا تھا۔اس کو ہمت نہیں ہوئی کہ وہ قادیان آتا یا اس رسالہ کا جواب لکھتا۔اور اب تک کسی نجفی یا بغدادی یا ہندوستانی مکذب کو یہ توفیق نہ ملی کہ اس کا جواب شائع کرے۔محمد سعید شامی اس رسالہ کی اشاعت کے وقت ایک شخص محمد سعید نامی جو ملک شام کے قصبہ طرابلس کا رہنے والا تھا قادیان آیا۔وہ خود بڑا ادیب اور شاعر تھا اس نے جب حضرت کی عربی تالیفات اور ان میں مندرجہ قصائد دیکھے تو وہ بے اختیار وجد کرتا۔راقم الحروف ذاتی طور پر اس سے واقف اور ایک حد تک بے تکلف ، اس نے خود بھی ایک رسالہ اِيْقَاذُ النَّاس کے نام سے عربی زبان میں لکھا۔اور حضرت کی مدح میں لطیف اشعار بھی لکھے غرض کرامات الصادقین اور تحفه بغداد لا جواب ہے اور ۶۰ برس گزر جانے پر آج بھی لاجواب اور حضرت اقدس کے اعجاز علمی کا نشان ہیں۔شہادۃ القرآن کی اشاعت اگست ۱۸۹۳ء کے اواخر میں منشی عطا محمد صاحب نے ایک مطبوعہ خط حضرت کی خدمت میں بھیجا اور اس میں حضرت سے مسیح موعود کے دعوئی پر قرآنی دلائل کا مطالبہ کیا۔منشی عطا محمد صاحب بٹالہ ضلع گورداسپور کے رہنے والے تھے اور امرتسر کی کچہری ضلع میں وہ اہل مد تھے اور سرسید احمد خاں مرحوم کے گرویدہ تھے۔مکرم ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مغفور نے ان کی نسبت لکھا ہے کہ وہ نیچری یا چکڑالوی خیالات رکھتے تھے۔چکڑالوی تو نہ تھے۔اس لئے کہ اس وقت تک مولوی عبداللہ چکڑالوی پبلک میں نہ آئے تھے۔راقم الحروف منشی عطاء محمد صاحب سے ذاتی واقفیت رکھتا ہے اور عبداللہ چکڑالوی کو بھی نہ صرف اس نے دیکھا۔بلکہ اُن سے گفتگو بھی کی ہے حقیقی طور پر منشی عطا محمد صاحب اس زمانہ کی اصلاح کی موافق نیچری تھے۔اگر میں غلطی نہیں کرتا تو علامہ مشرقی