حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 270 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 270

حیات احمد ۲۷۰ جلد چهارم تحفہ بغداد اور حمامۃ البشریٰ کی تصنیف کے اسباب کرامات الصادقین کی وجہ تالیف کا ذکر ہو چکا۔تحفہ بغداد کی تالیف کا ذریعہ ایک شخص سید عبدالرزاق قادری بغدادی کا ایک اشتہار ہوا۔وہ حیدرآباد آیا ہوا تھا اور حیدر آباد اس وقت اس قسم کے گداگروں کے لئے ایک زرخیز زمین تھی۔بغداد کے نام سے ان پر ایک وجد طاری ہو جا تا اب تک بھی حضرت سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے جھنڈے مختلف مکانات پر لہراتے ہیں۔اُس نے اپنا سکہ جمانے کے لئے حضرت کے خلاف ایک اشتہار جاری کیا اور حضرت کو ایک عربی خط لکھا۔جس میں ہر قسم کی دشنام دہی سے کام لیا۔آئینہ کمالات اسلام میں جو مکتوب عربی زبان میں علماء و مشایخ کے نام آپ نے لکھا تھا۔اُسے پڑھ کر اس نے اپنے اندرونی مادہ متعفن کا اظہار کیا اور ہر قسم کے وہ لفظی ہتھیار جو فتاویٰ کفر کے اسلحہ خانہ میں تیار ہوتے ہیں استعمال کئے اور آپ پر نہ صرف فتویٰ کفر دیا بلکہ واجب القتل ٹھہرایا۔اس پر حضرت نے تـحـفـه بغداد نامی کتاب عربی زبان میں لکھی جس میں آپ نے ان الزامات سے جو آپ پر فتویٰ کفر کے مبادی قرار دیئے گئے تھے۔براءت کی اور اپنے دعاوی کو شرح وبسط کے ساتھ مؤکد به دلائل شرعیہ و نصوص قرآنیہ بیان کیا۔اور اسے عربی بولنے والے ممالک کے لئے ذریعہ تبلیغ قرار دیا۔اور نہایت درد بھرے الفاظ میں لکھا کہ ”مولویوں کے فتویٰ تکفیر سے دہو کا نہ کھاؤ بلکہ میرے پاس آؤ اور مجھے قریب سے دیکھو تا کہ تم صادق اور کاذب کا فرق کھلے طور پر دیکھ سکو۔“ اور آخر میں آپ نے عربی قصیدہ لکھا۔جس میں اپنی صداقت ور منجانب اللہ ہونے پر ایسے دلائل پیش کئے جو فہم سلیم رکھنے والے انسان کے جذبات کو ابھارتے ہیں۔اور ان اشعار میں اپنے مکذبین اور منکرین کو اُن وعید سے ڈرایا جو اُن کے متعلق قرآن کریم میں آئے ہیں۔اور آپ کے الہامات میں بھی ہیں۔غرض پوری بصیرت اور شوکت بیان کے ساتھ اتمام حجت کیا۔مگر اس رسالہ