حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 265 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 265

حیات احمد ۲۶۵ جلد چهارم کرامات الصادقین مطبع میں جا چکی تھی۔حضرت کا معمول یہ تھا کہ ساتھ ساتھ لکھتے اور کاتب کا پی لکھتا۔کا پیاں حضرت خود دیکھتے تھے اور پروف بھی۔حضرت عبدالکریم صاحب کے دیکھنے کے بعد آخری پروف خود درست کرتے۔غرض یہ رسائل طباعت کے لئے سیالکوٹ بھیج دیئے گئے چنانچہ ۱۶ / جولائی ۱۸۹۲ء کو آپ حضرت چودھری رستم علی خاں صاحب رضی اللہ عنہ کو لکھتے ہیں۔عربی رسائل کی تالیف کے دو مقصد بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سَلَّمَهُ تَعَالَى - السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته مبلغ ہیں روپے ( ع ) مرسلہ آنمکرم مجھ کومل گئے۔جَزَاكُمُ اللهُ خَيْرَ الْجَزَاء رسالہ عربی سیالکوٹ میں چھپ رہا ہے۔شاید ہمیں روز تک تیار ہو جائے۔اس رسالہ کی تالیف کے دو مقصد ہیں۔اول یہ کہ عربوں کے معلومات وسیع کئے جاویں۔اور اپنے حقائق و معارف کی ان کو اطلاع دی جائے۔دوسرے یہ کہ میاں محمد حسین اور ان کے ساتھ دوسرے علماء جو اپنی عربی دانی اور علم دین پر ناز کرتے ہیں۔ان کا یہ کبر تو ڑا جائے۔چنانچہ اس رسالہ کے ساتھ اسی غرض سے ہزار روپیہ تالہ کا اشتہار بھی شامل ہے۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان ۱۶ جولائی ۱۸۹۲ء مکتوبات احمد یہ جلد ۵ نمبر ۳ صفحه ۱۲۰۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحه ۵۹۰ مطبوعه ۲۰۰۸ء) یہ سلسلہ تالیف و طباعت رسایل عربی لمبا ہوتا گیا چنانچہ ۲۵ ستمبر ۱۸۹۳ء اور ۱/۱۸ اکتوبر ۱۸۹۳ء اور ۱۱/ نومبر ۱۸۹۳ء تک طباعت کے متعلق آپ منتظر احباب کو اطلاع دیتے رہے اور اسی اثناء میں حمامة البشری ایک جدید عربی تصنیف کا کام بھی شروع ہو گیا اور وہ بھی طباعت کے