حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 264
حیات احمد ۲۶۴ جلد چهارم کرامات الصادقین کی طباعت واشاعت کرامات الصادقین کی طباعت و اشاعت کا انتظام منشی غلام قادر فصیح ایڈیٹر پنجاب گزٹ سیالکوٹ کے سپرد کیا گیا تھا۔وہ سلسلہ میں اخلاص کے ساتھ داخل ہوئے تھے۔اور امرت سر کے مباحثہ میں وہ شریک صدارت تھے۔فصیح صاحب اور حساب کتب اس سے پہلے اور ہانہ کے مباحثہ کے بعد حضرت اقدس نے جو خط و کتابت ڈپٹی کمشنر لو ہانہ سے کی تھی اس کے ترجمہ کی سعادت بھی انہیں کے حصہ میں آئی تھی۔حضرت خلیفة المسیح اوّل کے ہمزلف بھی تھے مگر آخری حصہ عمر میں احمدیت کے عقاید حقہ کے خلاف نہیں بلکہ بعض اپنی عملی کمزوریوں کی وجہ سے عملاً الگ ہو گئے۔حضرت مخدوم الملۃ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ان کو دلی عقیدت تھی۔(اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے) چونکہ ان کے مطبع میں طباعت کا کام اچھا ہوتا تھا اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب بھی سیالکوٹ میں مقیم تھے۔اس لئے کرامات الصادقین اور ايْقَاظُ النَّاس (محررہ محمد سعید شامی ) اور تحفہ بغداد وغیرہ عربی کتب کی طباعت کا انتظام ان کے مطبع میں کیا گیا۔۱۸۹۳ء کی دوسری ششماہی کا واقعہ ہے۔اس غرض کے لئے آپ نے بہت سا روپیہ فصیح صاحب کو دیا۔اور جب وہ ان کتابوں کی طباعت وغیرہ اخراجات کا حساب تیار کر کے آپ کی خدمت میں لائے اور حضرت کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے فرمایا میں اپنے دوستوں سے حساب نہیں کرتا، اپنے مال کا حساب نہیں ہوتا۔میں اپنے دوستوں پر اعتماد کرتا ہوں اور پھر کیا کوئی اپنے اموال کو ضائع کرتا ہے۔غرض ان کا کاغذ پھاڑ ڈالا۔جہاں تک حضرت اقدس کی تحریروں سے پتہ چلتا ہے جون ۱۸۹۳ء کے اواخر میں