حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 261
حیات احمد ۲۶۱ جلد چهارم ہوسکتی ہے جو حقیقت میں اپنے تئیں عربی دان اور ایک فاضل آدمی خیال کرتا ہو۔اور اپنے فریق مقابل کو ایسا جاہل یقین رکھتا ہو کہ بقول اس کے ایک صیغہ عربی کا بھی اُس کو نہیں آتا۔اور پھر خدا تعالیٰ سے بھی مدد نہیں پاسکتا۔ہماری اس درخواست کی بنا تو صرف یہ بات تھی کہ اس شیخ چالباز نے جابجا جلسوں اور وعظوں اور تحریروں اور تقریروں میں یہ کہنا شروع کیا تھا کہ یہ شخص یعنی یہ عاجز ایک طرف تو اپنے دعویٰ الہام میں مفتری اور دجال اور کاذب ہے اور دوسری طرف اس قدر علوم عربیت اور علم ادب اور علم تفسیر سے جاہل اور بے خبر ہے کہ ایک صیغہ بھی اس کے منہ سے صحیح طور پر نکل نہیں سکتا۔اور جن آسمانی نشانوں کو دیکھا تھا ان کا تو پہلے انکار کر چکا تھا اور ان کو رمل اور جفر قرار دے چکا تھا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے اس طور سے بھی اس شخص کو بھی ذلیل اور رسوا کرنا چاہا۔صاف ظاہر ہے کہ اگر یہ شخص اہل علم اور اہل ادب میں سے ہوتا تو ان سو دو سو شرائط اور حیلوں کی اس جگہ ضرورت ہی کیا تھی تنقیح طلب تو صرف اس قدر امر تھا کہ شیخ مذکور اپنے ان بیانات میں جو جا بجا شائع کر چکا ہے صادق ہے یا کا ذب اور یہ عاجز بالمقابل عربی بلیغ اور تفسیر لکھنے میں شیخ سے کم رہتا ہے یا زیادہ۔کم رہنے کی حالت میں میں نے اقرار کر دیا تھا کہ میں اپنی کتابیں جلا دوں گا۔اور توبہ کروں گا۔اور شیخ مذکور کی رعایت کے لئے اس مقابلہ کے بارے میں دن بھی چالیس مقرر کر دئیے تھے جن کے معنی شیخ نے خباثت کی راہ سے یہ کئے کہ گویا میرا چالیس دن کے مقرر کرنے سے یہ منشاء ہے کہ شیخ مذکور چالیس دن تک مر جائے گا۔حالانکہ صاف لکھا تھا کہ چالیس دن تک یہ مقابلہ ہو نہ کہ یہ کہ چالیس دن کے بعد شیخ اس جہاں سے انتقال کر جائے گا۔اب چونکہ شیخ جی نے اس طور پر مقابلہ کرنا نہ چاہا اور بیہودہ طور پر بات کو ٹال دیا۔اس لئے اب ہمیں اس مقابلہ کے لئے دوسرا پہلو بدلنا پڑا۔اور ہم فراست ایمانیہ کے طور پر یہ پیش گوئی کرتے ہیں کہ شیخ صاحب اس طریق مقابلہ کو بھی