حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 207
حیات احمد ۲۰۷ جلد چهارم آئے تھے مگر ناکام رہے۔مگر کیسی شرمندگی اور ندامت سے اپنی جھوٹی فتح کو آپ کو واپس لینا پڑا ہوگا۔وہ نظارہ قابل دید تھا۔مصور کا قلم بھی اس کی صحیح تصویر نہیں کھینچ سکتا۔حضرت پورے وقار اور سکون کے ساتھ تشریف فرما تھے گویا اس واقعہ کو بھی اپنی فتح کا نشان سمجھ رہے تھے۔آپ نے حسب معمولی بیان شروع کیا اور آپ نے لکھایا کہ اب بعد اس کے واضح ہو کہ میں نے ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب کی خدمت میں یہ تحریر کیا تھا کہ جیسے کہ آپ دعوی کرتے ہیں کہ نجات صرف مسیحی مذہب میں ہے۔ایسا ہی قرآن میں لکھا ہے کہ نجات صرف اسلام میں ہے اور آپ کا تو صرف اپنے لفظوں کے ساتھ دعویٰ اور میں نے وہ آیات بھی پیش کر دی ہیں لیکن ظاہر ہے کہ دعویٰ بغیر ثبوت کے کچھ عزت اور وقعت نہیں رکھتا سو اس بنا پر دریافت کیا گیا تھا کہ قرآن کریم میں تو نجات یابندہ کی نشانیاں لکھی ہیں۔جن نشانوں کے مطابق ہم دیکھتے ہیں کہ اس مقدس کتاب کی پیروی کرنے والے نجات کو اسی زندگی میں پالیتے ہیں مگر آپ کے مذہب میں حضرت عیسی نے جو نشانیاں نجات یا بندوں یعنی حقیقی ایمانداروں کی لکھی ہیں وہ آپ میں کہاں موجود ہیں مثلاً جیسے کہ مرقس باب ۱۶ آیت ۱۷ میں لکھا ہے اور وے جو ایمان لائیں گے ان کے ساتھ یہ علامتیں ہوں گی کہ وہ میرے نام سے دیووں کو نکالیں گے اور نئی زبانیں بولیں گے۔سانپوں کو اٹھا لیں گے اور کوئی ہلاک کرنے والی چیز پئیں گے انہیں کچھ نقصان نہ ہوگا۔وے بیماروں پر ہاتھ رکھیں گے تو چنگے ہو جائیں گے۔“ تو اب میں بادب التماس کرتا ہوں اور اگر ان الفاظ میں کچھ درشتی یا مرارت ہو تو اس کی معافی چاہتا ہوں کہ یہ تین بیمار آپ نے پیش کئے ہیں یہ علامت تو بالخصوصیت مسیحیوں کے لئے حضرت عیسی قرار دے چکے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر تم سچے ایماندار ہو تو تمہاری یہ علامت ہے کہ ” بیمار پر ہاتھ رکھو گے تو وہ چنگا ہو جائے گا۔اب گستاخی معاف اگر آپ سچے ایماندر ہونے کا دعوی کرتے ہیں تو اس وقت تین بیمار آپ ہی کے پیش کردہ موجود ہیں۔آپ ان پر ہاتھ رکھ دیں۔اگر وہ چنگے ہو گئے تو ہم قبول کرلیں گے کہ بے شک آپ سچے ایماندار اور نجات یافتہ ہیں ورنہ کوئی قبول کرنے کی راہ نہیں کیونکہ حضرت