حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 206 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 206

حیات احمد ۲۰۶ جلد چهارم مانگا تھا اور جواب طلب کیا تھا۔اس کے جواب میں تو اپنے بیان میں خود اپنے منہ سے اقبال کرتے ہیں کہ کثرت فی الوحدت کا مسئلہ تثلیث فی التوحید بجائے خود ایک ایسا راز ہے کہ اس کا سمجھنے والا نہ پہلے کوئی ہوا ہے اور نہ اب موجود ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔اس کے سمجھانے سے ہمارا خدا عاجز ، ہم عاجز یہ مسئلہ ہی ایسا نہیں کہ عقل میں آسکے تو اب فرمائیے کہ حضرت مرزا صاحب پر عدم جواب دہی کا قصور عاید کرنا اور بار بار بیچ بیچ کہتے جانا کہاں تک بیج ہے۔حضرت موصوف کے سوالات کے جواب میں جب آپ خود عاجز تھے تو پھر حضرت موصوف اب کیا جواب آپ کو دیں سوائے اس کے کہ بریں عقل و دانش باید گریست آپ نے تو اپنے ایک ہی دن کے بیان میں اپنی عقل کے جو ہر دکھا دئیے۔بات تو صاف ہے کہ آپ کے وجود میں سوائے ایک بے جا جوش اور ناجائز حمایت اور صرف نفسانیت کی ضد کے اور کچھ بھی نہیں۔افسوس ہے کہ آپ نے اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے وکیل مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب سے چھٹیاں بھی لیں اور ان کو اپنے عندیہ میں نا کافی سمجھ کر ایک دن کے واسطے بیمار بھی بنایا۔مگر جو عیب عیسائیت کا آپ کے وکیل برابر چھ دن سے چھپا رہے تھے۔آپ نے اپنے ایک ہی گھنٹہ کے بیان میں ظاہر کر دیا اور ایک ہی دفعہ بھانڈہ پھوڑ دیا۔اور مسٹر عبداللہ صاحب الگ ناراض ہو گئے جیسا کہ عموماً بعد اختتام مباحثہ امرتسر میں سنا گیا کہ آئند ہے کے واسطے مسٹر عبداللہ آتھم صاحب نے عہد کر لیا ہے کہ نہ ان عیسائیوں کی طرف سے وہ کوئی وکالت اپنے ذمہ لیں گے اور نہ عیسائی صاحبان ہی رضامند ہیں کہ آئندہ کسی مذہبی بحث میں عبداللہ آتھم صاحب کو پیش کریں۔وَالْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ ہاں حضرت اقدس کو اپنے بیان ۲۹ مئی ۹۳ء میں طعن سے آپ نے یہ کہا تھا کہ فتح کا بڑا دعویٰ کر کے لے حاشیہ۔اس وقت تو یہ عام افواہ تھی میں خود مباحثہ کے بعد اپنے قیام امرتسر میں آتھم صاحب سے اکثر ملتا تھا۔انہوں نے مجھے کہا کہ مجھے کو مباحثہ کے لیے مجبور کیا گیا۔اور میں تو مرزا صاحب سے مباحثہ کرنا نہ چاہتا تھا۔اور میں آئندہ مباحثہ نہ کرنے کا عہد کر چکا ہوں۔اپنی ساری زندگی میں میں نے کبھی مباحثہ کیا نہیں۔البتہ شوقیہ طور پر چھوٹے چھوٹے رسالے شائع کرتا رہا ہوں ( عرفانی الاسدی) المآئدة : ۶۵