حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 198 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 198

حیات احمد ۱۹۸ جلد چهارم جواب شائع کر کے قلعی کھول دی۔اس کا رروائی کو بھی حضرت میر حامد شاہ صاحب کی زبانی سنو جو انہوں نے اس جلسہ میں پریذیڈنٹوں کے فرائض کے ریویو میں ضمناً تحریر کیا ہے۔پریذیڈنٹ صاحبان اور ان کے فرائض منشی غلام قادر صاحب فصیح اور ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب بحیثیت پریذیڈنٹی کیسے رہے اس امر کا اندازہ صرف باتوں کے موازنہ کرنے سے ہوسکتا ہے جو وقتاً فوقتاً انتظام جلسہ کے لحاظ سے پیش ہوتی رہی۔اور ان پر ہر دو پریذیڈنٹ صاحبان کے درمیان ایک لطیف مباحثہ ہوتا رہا۔وہ نظارہ دراصل لطف سے خالی نہ ہوتا تھا۔کہ جب یہ پریذیڈنٹ صاحبان کسی امر کے تصفیہ کے واسطے نہایت زور و شور سے اپنے اپنے مفید پہلوؤں پر بادلائل گفتگو کرتے تھے۔اسلامی جماعت کو اس بات کا فخر ہے کہ ان کے پریذیڈنٹ منشی غلام قادر صاحب فصیح کی طرف سے کسی غیر متعلق اور اپنے فرائض ذاتی سے بڑھ کر اور اپنے حدا ختیارات سے متجاوز ہوکر کسی امر کے جلسہ میں پیش کرنے کا دھبہ نہیں لگا۔میر مجلس کے فرائض بحیثیت عہدہ کسی جلسہ کے انتظام امن اور ترتیب میں خلل پیدا ہونے کو روکنا ہے۔اور ان امور اختلافیہ میں تصفیہ کرانا جو ہر دو فریق مباحث یعنی خاص دونوں حریف مقابل میں پیدا ہوں۔مگر نہایت افسوس ہے کہ جن باتوں کو ڈاکٹر صاحب اپنے نزدیک خلاف سمجھ کر پیش کرتے تھے وہ اوّل تو عموماً ایسی ہوتی تھیں جو ان کے منصب ذاتی سے کچھ تعلق نہ رکھتی تھیں اور ان کے اختیار سے باہر اور پھر طرفہ یہ کہ ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب جو حریف مقابل تھے ڈاکٹر صاحب کی اکثر راؤں سے متفق نہ ہوتے تھے اور صاف کہتے تھے کہ ہم فلاں امر کو جب باہم منظور کرتے ہیں یعنی حضرت اقدس مرزا صاحب اور ہم جب اپنے لئے اس امر کو نا مناسب نہیں پاتے تو ڈاکٹر صاحب کیوں اس میں دست اندازی کرتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب کی اکثر بے جا قیود اور سخت پابندیوں پر بے چارے ڈپٹی عبداللہ صاحب بہت ہی نفرت سے نہ نہ کرتے تھے۔مگر ڈاکٹر صاحب ہیں کہ سنبھلتے ہی نہیں اور بے جا دخل در معقولات دیئے