حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 181 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 181

حیات احمد ۱۸۱ جلد چهارم فرائض کا مقابلہ کیا جائے گا۔مگر یہاں اس قدر لکھ دینا مناسب ہے کہ منشی صاحب نے حضرت مقدس جناب مرزا صاحب کی اعلیٰ رضامندی اور آپ کی جماعت اور دیگر شرکاء جلسہ کی تعریف کو اپنے وجود پر ایک سچا حق دار بن کر ثابت کر دکھلایا ہے۔عیسائی صاحبان کی طرف سے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب منصب میر مجلسی پر ممتاز ہوئے ڈاکٹر صاحب موصوف تو یوروپین ( یوروپین نما۔عرفانی) جنٹلمین ہیں ان کی خصوصیات ایسے جلیل منصوبوں کے واسطے ایک مسلمہ امر ہیں۔وجاہت ذاتی خدا داد چیز ہے۔یہ سب ڈاکٹر صاحب میں موجود تھا اس لئے عیسائی صاحبان کا انتخاب بھی واجب انتخاب تھا۔اتفاق رائے جلسہ سے حضرت اقدس مرزا صاحب کے لئے تین معاون اور عبداللہ آتھم صاحب کے لئے تین معاون مقرر ہوئے۔چونکہ رویداد جلسہ مورخہ ۲۲ رمئی ۱۳ ء میں ان کے نام نامی درج ہو کر شائع ہو چکے ہیں یہاں بیان کرنے کی کچھ ضرورت نہیں۔مگر معاونین کے متعلق ایک سوال کا اس موقعہ پر ذکر ہو جانا خالی از فائدہ نہیں یعنی یہ کہ فریقین کے معاونین نے کیا کیا ؟ جن لوگوں نے اس مباحثہ کو دیکھا ہے وہ ضرور اس امر پر اتفاق کریں گے کہ ان معاونین کا صرف یہ کام تھا کہ اصل مضمون میں اگر کسی کتاب سے حوالہ درج کرنے کی ضرورت ہو تو وہ اس کتاب میں باب یا آیت کا پتہ بتادیں یا قرآن مجید میں سے آیات محوله کا مقام کہ کس سیپارہ کس رکوع میں یہ آیت ہے درج کرا دیں یا کوئی ایما کسی امر میں اگر کر نا منظور ہو تو حسب شرائط قرار داده بذریعہ تحریر کان میں کہہ دیں اس میں کچھ شک نہیں کہ حضرت مقدس ا جناب مرزا صاحب کے معاونین کو بموجب شرائط کا رروائی کرنے سے کوئی امر مانع نہ آیا مگر عیسائی صاحبان کی طرف سے عموماً کسی نہ کسی خاص صورت معاونت کی اجازت حاصل کی جاتی تھی اور عیسائی صاحبان کے معاونین کو جس طرح کا مصالح مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کے واسطے ہر ایک سوال کی جواب دہی پر تیار کرنا پڑتا تھا۔اور جس طرح کی محنت اس امداد دہی کی ان کی جان پر پڑتی تھی اس قسم کی معاونت یا امداد کا موقع حضرت اقدس نے اپنے معاونین کو نہیں دیا۔معمولی حوالہ جات کا پتہ تو بتادیا جاتا تھا۔مگر یہ نہیں ہوتا تھا کہ عیسائی صاحبان کی طرح ڈپٹی عبداللہ آتھم