حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 9 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 9

حیات احمد ۱۸۹۳ء کے واقعات میری قادیان میں پہلی آمد جلد چهارم جیسا کہ میں نے تمہیدی نوٹ میں بیان کیا ہے کہ میں اپنا تعلیمی سلسلہ اپنی خواہش کے خلاف ختم کر چکا تھا۔اپریل کے پہلے ہفتہ میں میں نے قادیان جانے کا عزم کیا۔حضرت مولوی محمد احسن صاحب غَفَرَ الله له ان ایام میں لاہور میں تھے اور وہ اسی محلے کو چہ کندی گراں میں لَهُ (جہاں میں رہتا تھا) منشی عبدالحق صاحب غَفَرَ اللهُ لَہ کے مکان پر فروکش تھے۔اور تحذیر المؤمنین لکھ رہے تھے انہوں نے بھی قادیان جانے کا عزم کیا۔ہم دونوں لاہور کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچے۔اسٹیشن پر انہیں تار ملا کہ ان کے گھر میں لڑکا پیدا ہوا ہے۔یہ لڑکا محمد اسماعیل نام کا تھا۔جو جوان ہوکر رنگون میں شاعر اور حکیم معروف ہوئے۔اور شاید اب پاکستان میں ہیں۔اس خبر پر انہوں نے قادیان کے سفر کا ارادہ ملتوی کر دیا۔اور امروہہ جانے کے لئے میرے ساتھ سوار ہو گئے اس وقت بٹالہ میں عصر کے بعد گاڑی پہنچتی تھی۔اس لئے کہ امرتسر میں گاڑی بدلنا ہوتا تھا۔رمضان ناسراھ کا پہلا عشرہ تھا۔میں چونکہ اس سفر سے ناواقف تھا اور اس کے علاوہ حضرت کے حضور پیش کرنے کے لئے مختلف قسم کی سبزیوں کا ایک بنڈل تھا بٹالہ سے کوئی یکہ مل نہ سکا تھا اس لئے ایک مزدور جو دوانی وال کا ایک چہار تھا لیا۔اس نے یقین دلایا کہ میں قادیان کا راستہ جانتا ہوں۔بعض اور لوگوں سے بھی پوچھ کر تسلی کی اور بڑا نشانِ راہ یہ بتایا گیا کہ نہر سے آگے جا کر جو بائیں طرف کا موڑ آئے گا وہ قادیان جاتا ہے۔اس تحقیق اور مزدور مذکور کی مصروفیت کی وجہ سے کافی دیر ہوگئی۔اور راستہ میں وہ اپنا سامان اور سودا سلف جو اس نے اپنے لئے خریدا ہوا تھا پہنچانے کے لئے دوانی وال کی سڑک پر واقع کنوئیں کے پاس مجھے چھوڑ کر گھر گیا اور مجھے کافی دیر انتظار کرنا پڑا۔یہاں تک کہ آفتاب غروب ہو گیا۔اور نہر پر پہنچنے سے پہلے ہی تاریکی پھیل گئی اور