حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 177 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 177

122 جلد چهارم حیات احمد بے اثر ثابت ہو جانے میں بہت سا حصہ شیخ بٹالوی نے بھی لیا اور جہاں تک ہوسکا عیسائیوں کے ساتھ اس بحث کے ہونے اور اسلام کی حقانیت ظہور پانے میں انہوں نے روک تھام کی مگر افسوس کہ عیسائی صاحبان اور شیخ بٹالوی کو اپنی ناجائز اور خلاف شرائط مذہبی کارروائیوں میں ہرگز کامیابی نہیں ہوئی۔اگر شیخ صاحب اس سے انکار کریں تو اپنا وہ دو ورقہ اشتہار جو انہوں نے بحث کے ملتوی ہو جانے کی جھوٹی خوشی کے اظہار میں شائع کرانے کے لئے بہت سا چھپوا دیا تھا ملا حظہ کر لیں اور پھر چونکہ بحث بڑے زور و شور سے شروع ہو پڑی اس کی اشاعت مولوی صاحب کو ملتوی کرنی پڑی اور ناحق خرچ طبع اشتہار کی زیر باری انہیں اٹھانی پڑی۔اور اب پر چہ ہائے بحث کو دیکھ کر ان کو اور بھی شاید شرمندہ اور نخل ہونا پڑے کیونکہ یہی صداقتیں اسلام کی جو پرچوں میں شائع ہوئی ہیں ان کا غالب ارادہ تھا کہ نہ ظاہر ہوں۔تعجب ہے کہ ان کو حضرت اقدس جناب مرزا صاحب کی عداوت نے کس درجہ پر پہنچا دیا ہے کہ وہ اب اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ حضرت موصوف کی حمایت سے مذہب اسلام کا بول بالا ہو اور ہادی برحق رسول مطلق محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت دنیا میں قائم کی جائے۔اور الوہیت مسیح اور کفارہ اور تثلیث کے گندے وخلاف عقل اعتقادوں کی بیخ کنی ہو جائے۔حضرت اقدس کا ورود امرتسر شين حضرت اقدس معه اہلِ بیت و بزرگان سلسله ۲۰ مئی ۱۸۹۳ء بروز شنبه امرت سر پہنچے کہ امرت سر کی جماعت کے افراد کے علاوہ شہر کے بعض ممتاز رؤسا جیسے خان بہادر خواجہ یوسف شاہ صاحب اور حاجی محمود صاحب وغیرہ موجود تھے اور عوام کی بھی ایک جماعت تھی اس لئے کہ عیسائیوں کی اشتہار بازی سے مسلمانوں میں خاص دلچسپی پیدا ہوگئی تھی۔امرت سر میں قیام کا انتظام حضرت شیخ نور احمد صاحب مالک مطبع ریاض ہند کے سپرد تھا۔وہ خود ہال بازار میں شیخ خیر الدین کی مسجد کے پاس رہتے تھے۔اور جس مکان میں وہ خود اور ان کا مطبع تھا اس بلاک میں چند مکانات تھے جو لالہ گور دیال ساکن فتح گڑھ چوڑیاں کے مملوکہ تھے اس وقت صرف ایک