حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 174 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 174

حیات احمد ۱۷۴ جلد چهارم مسلمانوں کے نمائندے کیونکر ہو سکتے ہیں۔ڈاکٹر کلارک کو یہ بہانہ مل گیا۔اس نے اخبار نورافشاں لودہانہ کے ساتھ بطور ضمیمہ کے ایک اشتہار شائع کیا اور جنڈیالہ کے مسلمانوں کو مخاطب کر کے اس امر پر زور دیا کہ جو شخص علماء اسلام کے نزدیک کافر اور مرتد ہے وہ اسلام کا نمائندہ اور تمہارا وکیل کیسے ہو سکتا ہے؟ تم کسی اور مسلمان عالم کو اپنا وکیل مقرر کرو۔ڈاکٹر کلارک اور مولوی محمد حسین صاحب کو یقین تھا کہ یہ حربہ کارگر ہوگا اور اس طرح پر یہ موت کا پیالہ ٹل جائے گا مگر یہ تو آسمان پر قرار پائی ہوئی تجویز تھی کہ مسیح موعود کے ہاتھ سے اس طرح پر کسر صلیب ہو۔میاں محمد بخش پانڈہ اور ان کے رفقائے کار بخوبی جانتے تھے اور ان کو امرت سر کے رؤسا اور بعض دوسرے مسلمانوں نے بھی جو اس مباحثہ کی اہمیت کو سمجھتے تھے بتا دیا تھا کہ اس میدان کا مرد یہی شخص ہے۔اور وہ خود پہلے ہی دیکھ چکے تھے کہ جن مسلمانوں کو انہوں نے لکھا وہ جواب تک نہ دیتے اس لئے انہوں نے ڈاکٹر کلارک کے مطالبہ کو سختی سے رد کر دیا اور صاف اور کھلے الفاظ میں ڈاکٹر کلارک کو بتایا کہ باہمی اختلاف تو ہر مذہب کے لوگوں میں موجود ہے کیا سب عیسائی اس اختلاف سے بچے ہوئے ہیں۔اور ہم ایسے علماء کو جو ایک مؤید الاسلام کی تکفیر کرتے ہیں مفسد یقین کرتے ہیں اس پر ایک مفصل اشتہا رمسلمانانِ جنڈیالہ کی طرف سے ہی نہیں بلکہ امرتسر کے مسلمانوں کی طرف سے بھی شائع ہوا اور اس پر بعض علماء کے بھی دستخط تھے۔اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے تو یہاں تک لکھا تھا کہ اس جنگِ مقدس میں حضرت مرزا صاحب کے زیر کمانڈ اسی طرح کھڑا ہونے کا اعلان کرتا ہوں جس طرح حضرت معاویہؓ نے باوجود حضرت علیؓ کے ساتھ اختلاف کے اسلام کے دشمن کے مقابلہ میں حضرت علی کے ماتحت لڑنے کا اعلان کیا۔میں نے ان بیانات کا مفہوم لکھ دیا ہے اور اس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔اگر چہ ۱۹۴۷ء کے انقلاب میں اس قسم کا لٹریچر میرے دفتر سے ضائع ہوگیا تاہم ان واقعات کی تائید حضرت میر حامد شاہ صاحب کی ایک مطبوعہ تحریر سے ہوتی ہے جس کو میں یہاں درج کرتا ہوں۔جو ۲۰ مئی ۱۸۹۳ء کے حالات کے ضمن میں انہوں نے شائع کی۔