حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 7 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 7

حیات احمد جلد چهارم چودہری نظام الدین صاحب سیال رضی اللہ عنہ جو مکرم چودھری فتح محمد صاحب سیال کے والد بزرگوار تھے ان سے اکثر ملاقاتیں رہا کرتی تھیں اور چودہری فتح محمد صاحب کو معلوم ہے کہ وہ میرے ساتھ کس محبت اور اخلاص کے ساتھ برتاؤ کرتے تھے۔میں عمر میں اُن سے چھوٹا تھا مگر وہ ہمیشہ اپنے بزرگانہ اخلاق کے رنگ میں بھی احترام کو ترک نہ کرتے یہ ان کی خوبی تھی۔ورنہ من آنم کہ من دانم ۴۔اس جلد کے اسلوب بیان میں کچھ تبدیلی میرے زیر نظر ہے اس لئے اس کا بیان کرنا بھی ضروری ہے۔اور وہ یہ ہے کہ بعض واقعات ایسے ہیں کہ ان کا آغاز مثلاً ۱۸۹۳ء میں ہوتا ہے لیکن ان کا تدریجی سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا۔اور وہ کئی سالوں پر پھیل گیا۔اگر پہلے طریق پر تاریخی رنگ میں اسے بیان کیا جاوے تو وہ ادھورا ہوگا۔اور پھر اس کا ذکر کسی دوسرے سال میں ہوگا۔اور قارئین کرام کو اس سال کے واقعات تک کا انتظار کرنا پڑے گا۔اس لئے میں نے اس جلد میں یہ التزام کیا ہے کہ جو واقعہ اس سال پیش آیا اور اس کا سلسلہ دراز ہوگیا تو میں اس پورے واقعہ کے متعلقات کو بھی بیان کر دوں گا تا کہ قارئین کرام کو زحمت انتظار نہ ہو اور آنے والے مؤرخ کو یک جائی طور پر مواد مل جاوے۔مثلاً جنگ مقدس (مباحثہ آتھم ) کا آغاز ۱۸۹۳ء میں ہوا اور اس کا سلسلہ ۱۸۹۷ء تک چلا گیا۔جب کہ اس کے ضمن میں پیدا شدہ حالات کی بنا پر دوسری جنگ مقدس ( مقدمہ ڈاکٹر مارٹن کلارک) ختم ہوئی۔یہ صرف اس صورت میں ہوگا جس واقعہ کا سلسلہ دراز ہو گیا ہو ورنہ حسب معمول ہر سال کے واقعات کا سلسلہ رہے گا۔میں چاہتا ہوں کہ اس جلد کو کم از کم ۱۸۹۷ء تک اور زیادہ سے زیادہ ۱۹۰۰ ء تک کے واقعات و حالات تک پھیلاؤں یہ میری طاقت میرے بس کی بات نہیں مولیٰ کریم کے فضل و کرم اور توفیق پر موقوف ہے۔جہاں تک اسباب کا تعلق ہے احباب کی توجہ کی خاص ضرورت ہے۔میں نے جب ۱۹۱۴ء کے قریب اس سلسلہ کو شروع کیا تھا تو ایک ہزار ہرنمبر اشاعت پاتا تھا۔ظاہر ہے