حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 146
حیات احمد ۱۴۶ جلد چهارم بالآخر یہ بھی واضح رہے کہ اس عاجز کے مقابلہ پر جو صاحب بھی کھڑے ہوں وہ کوئی بزرگ نامی اور معزز انگریز پادری صاحبوں میں سے ہونے چاہئیں۔کیونکہ جو بات اس مقابلہ اور مباحثہ سے مقصود ہے اور جس کا اثر عوام پر ڈالنا مد نظر ہے وہ اسی امر پر موقوف ہے کہ فریقین اپنی اپنی قوم کے خواص میں سے ہوں۔ہاں بطور تنزل اور اتمام حجت مجھے یہ بھی منظور ہے کہ اس مقابلہ کے لئے پادری عمادالدین صاحب یا پادری ٹھا کر داس صاحب یا مسٹر عبداللہ آتھم صاحب عیسائیوں کی طرف سے منتخب ہوں اور پھر اُن کے اسماء کسی اخبار کے ذریعہ سے شائع کر کے ایک پر چہ اس عاجز کی طرف بھی بھیجا جائے اور اس کے بھیجنے کے بعد یہ عاجز بھی اپنے مقابلہ کا اشتہار دے دے گا۔اور ایک پر چہ صاحب مقابلہ کی طرف بھیج دے گا۔مگر واضح رہے کہ یوں تو ایک مدت دراز سے مسلمانوں اور عیسائیوں کا جھگڑا چلا آتا ہے اور تب سے مباحثات ہوئے اور فریقین کی طرف سے بکثرت کتابیں لکھی گئیں اور درحقیقت علمائے اسلام نے تمام تر صفائی سے ثابت کر دیا کہ جو کچھ قرآن کریم پر اعتراض کئے گئے ہیں وہ دوسرے رنگ میں تو ریت پر اعتراض ہیں۔اور جو کچھ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نکتہ چینی ہوئی وہ دوسرے پیرا یہ میں تمام انبیاء کی شان میں نکتہ چینی ہے جس سے حضرت مسیح بھی باہر نہیں بلکہ ایسی نکتہ چینیوں کی بناء پر خدا تعالیٰ بھی مورد اعتراض ٹھہرتا ہے۔سو یہ بحث زندہ مذہب یا مردہ مذہب کی تنقیح کے بارہ میں ہوگی۔اور دیکھا جاوے گا کہ جن روحانی علامات کا مذہب اور کتاب نے دعوی کیا ہے وہ اب بھی اس میں پائی جاتی ہیں کہ نہیں اور مناسب ہوگا کہ مقام بحث لاہور یا امرتسر مقرر ہوا اور فریقین کے علماء کے مجمع میں یہ بحث ہو۔خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور (روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۶۱ تا ۶۴)