حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 145
حیات احمد ۱۴۵ جلد چهارم میں موجود ہیں اپنے نفس کو ثابت کرے اور اگر نہ کر سکے تو دروغ گو ہے نہ مسلمان۔اور ایسا ہی عیسائی صاحبوں میں سے ایک فرد اس تعلیم اور علامات کے موافق جو انجیل شریف میں موجود ہیں اپنے نفس کو ثابت کر کے دکھلائے اور اگر وہ ثابت نہ کر سکے تو وہ دروغ گو ہے نہ عیسائی۔جس حالت میں دونوں فریق کا یہ دعوی ہے کہ جس نور کو ان کے انبیا ء لائے تھے وہ نور فقط لازمی نہیں تھا بلکہ متعدی تھا تو پھر جس مذہب میں یہ نور متعدی ثابت ہوگا اسی کی نسبت عقل تجویز کرے گی کہ یہی مذہب زندہ اور سچا ہے۔کیونکہ اگر ہم ایک مذہب کے ذریعہ سے وہ زندگی اور پاک نور معہ اس کی تمام علامتوں کے حاصل نہیں کر سکتے جو اس کی نسبت بیان کیا جاتا ہے تو ایسا مذہب بجز لاف گزاف کے زیادہ نہیں۔اگر ہم فرض کر لیں کہ کوئی نبی پاک تھا مگر ہم میں سے کسی کو بھی پاک نہیں کر سکتا اور صاحب خوارق تھا مگر کسی کو صاحب خوارق نہیں بنا سکتا اور الہام یافتہ تھا مگر ہم میں سے کسی کو مہم نہیں بنا سکتا تو ایسے نبی سے ہمیں کیا فائدہ۔مگر الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالْمِنْةَ کہ ہمارا سید و رسول خاتم الانبیاءمحمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں تھا۔اس نے ایک جہاں کو وہ نور حسب مراتب استعداد بخشا کہ جو اس کو ملا تھا اور اپنے نورانی نشانوں سے وہ شناخت کیا گیا۔وہ ہمیشہ کے لئے نور تھا جو بھیجا گیا اور اس سے پہلے کوئی ہمیشہ کے لئے نور نہیں آیا۔اگر وہ نہ آتا اور نہ اُس نے بتلایا ہوتا تو حضرت مسیح کے نبی ہونے پر ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں تھی کیونکہ اس کا مذہب مر گیا اور اس کا نور بے نشان ہو گیا۔اور کوئی وارث نہ رہا جو اُس کو کچھ نو ر دیا گیا ہو۔اب دنیا میں زندہ مذہب صرف اسلام ہے اور اس عاجز نے اپنے ذاتی تجارب سے دیکھ لیا اور پر کھ لیا کہ دونوں قسم کے نور اسلام اور قرآن میں اب بھی ایسے ہی تازہ بتازہ موجود ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت موجود تھے۔اور ہم ان کے دکھلانے کے لئے ذمہ وار ہیں اگر کسی کو مقابلہ کی طاقت ہے تو ہم سے خط و کتابت کرے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى