حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 93
حیات احمد ۹۳ جلد چهارم تفسیر القرآن میں مقابلہ وہ اپنے زعم میں اپنے علم وفضل کا سب سے بڑا مدعی تھا۔حضرت اقدس کی عربی تصنیف التبليغ وغیرہ کو دیکھ کر بھی اعتراض کرتا اور عربی زبان جو حضرت نے استعمال فرمائی اسے اربی کچالو کہتا تھا۔اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے بالمقابل عربی زبان میں قرآن کریم کی تفسیر کے لئے اعلان شائع کیا اور اس طریق فیصلہ کو اپنی صداقت کا معیار قرار دیا۔اور مولوی محمد حسین صاحب کو اجازت دی کہ وہ اپنی امداد کے لئے اپنے استاد مولوی سید نذیرحسین صاحب کو یا دوسرے علماء کو بھی ساتھ بلا لیں مگر مولوی محمد حسین نے بظاہر اس مقابلہ میں آنے کا اظہار بڑی شد ومد سے کیا مگر عملاً بتایا ” نہ انکار می کنم نه اینکار مے کنم حضرت اقدس نے اس مقصد کے لئے ۲۰ مارچ ۱۸۹۳ء کو ایک اشتہار شائع کیا جو حاشیہ میں درج ہے۔اشتہار میں مطالبہ صاف اور واضح ہے۔مولوی محمد حسین صاحب نے اس اشتہار کے جواب میں ۱۸ / اپریل ۱۸۹۳ء کو حسب ذیل جواب دیا:- حاشیہ۔ایک روحانی نشان جس سے ثابت ہوگا کہ یہ عاجز صادق اور خدا تعالیٰ سے مؤید ہے یا نہیں اور شیخ محمد حسین بٹالوی اس عاجز کو کاذب اور دقبال قرار دینے میں صادق ہے یا خود کا ذب اور دجال ہے۔عاقل سمجھ سکتے ہیں کہ منجملہ نشانوں کے حقائق اور لطائف حکمیہ کے نشان بھی ہوتے ہیں جو خاص ان کو دیئے جاتے ہیں جو پاک نفس ہوں اور جن پر فضل عظیم ہو۔جیسا کہ آیت لَا يَمَسُّةٌ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔اور آیت وَمَنْ يُؤْتَ الحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا - بلند آواز سے شہادت دے رہی ہے۔سو یہی نشان میاں محمد حسین کے مقابل پر میرے صدق اور کذب کے جانچنے کے لئے کھلی کھلی نشانی ہوگی۔اور اس فیصلہ کے لئے احسن انتظام اس طرح سے ہو سکتا ہے کہ ایک مختصر جلسہ ہو کر منصفان تجویز کردہ اس جلسہ کے چند سورتیں قرآن کریم کی جن کی عبارت اسی آیت سے کم نہ ہو تفسیر کے لئے منتخب کر کے پیش کریں اور پھر بطور قرعہ اندازی کے ایک سورۃ اُن میں سے نکال کر اسی کی تفسیر معیار امتحان ٹھہرائی جائے اور اس تفسیر کے لئے یہ امر لازمی ٹھہرایا جاوے کہ بلیغ فصیح زبان عربی اور مسقفی عبارت میں قلم بند ہو۔اور دس جزو سے کم نہ ہو اور جس قد راس میں حقائق و معارف لکھے جائیں وہ فقل عبارت کی طرح نہ ہو بلکہ معارف جدیدہ اور لطائف غریبہ ہوں جو کسی ل الواقعة: ٨٠ البقرة: ٢٧٠