حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 72
حیات احمد ۷۲ جلد سوم نہیں بلکہ اپنے محسن و آقا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آپ کے کمال کے اظہار کے لئے لکھا چنا نچہ فرماتے ہیں۔مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلمہ تعالی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا۔موجب تسلی ہوا۔چند روز سے آں مکرم کی بہت انتظار تھی اور تشویش تھی کہ کیا باعث ہوا۔اب معلوم نہیں کہ آپ کو کب فراغت ہوگی۔آپ کی ملاقات کو بہت دل چاہتا ہے۔خدا تعالی بخیر و عافیت آپ کو جلد ملا وے۔انجمن حمایت اسلام کی طرف سے تین سوال جو کسی عیسائی نے کئے تھے۔اس عاجز کے پاس بھی آئے اس غرض سے تا ان کا جواب لکھا جاوے۔شاید جو آپ کی خدمت میں بھیجے تھے وہی سوال ہیں یا اور ہیں۔ہر چند مجھے فرصت نہ تھی اور طبیعت بھی اچھی ی تھی مگر پھر بھی کسی قدر فرصت نکال کر دو سوال کا جواب میں نے لکھ دیا تھا۔اور زیادہ تر رجوع طبیعت کا اس وجہ سے بھی نہیں ہوتا۔کہ یہ انجمن مرضی پر چلتی ہے۔جو اپنے پسند ہو۔وہ کام کر لیتے ہیں۔نہیں تو نہیں۔پہلے اشتہار بیعت شائع کرنے کی غرض سے بھیجا گیا تھا۔انہوں نے چھاپا نہیں۔اب میرا ارادہ نہیں تھا کہ ان سوالات کا جواب لکھ کر انجمن کو بھیجوں۔یہ نامہ نگاروں کا کام ہے کہ اپنا وقت ضائع کر کے پھر چھپنا نہ چھپنا مضمون کا دوسرے کی مرضی پر چھوڑ دیں۔جب مضمون رڈی کی طرح پھینکا گیا تو اپنا وقت گو ایک گھنٹہ ہی ہوضائع گیا۔میں نے محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوش سے دوسوالوں کا جواب لکھ دیا۔تیسرے کے لئے ابھی فرصت نہیں مگر مجھے امید نہیں کہ وہ چھا ہیں کیونکہ خود پسندی اس انجمن کی عادت ہے۔مجھے معلوم نہیں کہ آپ نے انہیں سوالات شک وغیرہ کا