حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 58
حیات احمد ۵۸ دستگیری کی اور وہ علم بخشا کہ مدارس سے نہیں بلکہ آسمانی معلّم سے ملتا ہے۔اگر مجھے اُمّی کہا جائے تو اس میں میری کیا کسر شان ہے بلکہ جائے فخر کیونکہ میرا اور تمام خلق اللہ کا مقتدا جو عامہ خلائق کی اصلاح کیلئے بھیجا گیا وہ بھی اُمّتی ہی تھا۔میں اُس کھوپڑی کو ہرگز قدر کے لائق نہیں سمجھوں گا جس میں علم کا گھمنڈ ہے مگر اس کا ظاہر و باطن تاریکی سے بھرا ہوا ہے۔قرآن شریف کو کھول کر گدھے کی مثال پر غور کرو کیا یہ کافی نہیں؟ قولہ میں نے الہام کے بارے میں اس سے چند سوال کئے کسی قدر بے معنی جواب دے کر سکوت اختیار کیا۔اقول مجھے یاد ہے کہ بہت پُر معنی جواب دیا گیا تھا اور ایسے شخص کے لئے کہ جو کسی قدر انصاف رکھتا ہو کافی تھا مگر آپ نے نہ سمجھا اس میں کس کی پردہ دری ہے آپ کی یا کسی اور کی۔وہی سوال کسی اخبار میں شائع کیجئے اور دوبارہ اپنی خوش فہمی کی آزمائش کرائیے۔قولہ ہرگز یقین نہیں ہو سکتا کہ ایسی عمدہ تصانیف کے یہی حضرت مصنف ہیں۔اقول کیا آپ یقین کریں گے، یہ یقین تو ان کفار کو بھی میسر نہ آیا جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بچشم خود دیکھا تھا اور باعث سخت محجوب ہونے کے کمالات نبوی ان پر کھل نہ سکے اور یہی کہتے رہے کہ یہ بلیغ کلمات جو اس کے منہ سے نکلتے ہیں اور یہ قرآن جو خلق اللہ کو سنایا جاتا ہے یہ تمام عبارتیں درحقیقت بعض اور لوگوں کی تالیف ہیں جو پوشیدہ طور پر صبح اور شام اس کو سکھلائے جاتے ہیں اور ایک طور سے اُن کفار نے بھی سچ کہا اور مولوی صاحب کے منہ سے بھی سچ ہی نکلا کیونکہ بلا شبه قرآن شریف کا کلام بلاغت اور حکمت میں آنحضرت کی طاقت ذہنی سے بہت بلند بلکہ تمام مخلوقات کی طاقت سے برتر و اعلیٰ ہے۔اور بحجر علیم مطلق اور قادر کامل کے جلد سوم