حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 57
حیات احمد ۵۷ کے ہم ظرف ہیں ان کے مواد خبیثہ بھی اس تقریب سے باہر نکل آویں۔رہی یہ بات کہ آپ کی عالمانہ عظمت اور ہیبت سے میں ڈر گیا تو اس کے جواب میں آپ یقیناً سمجھیں کہ جو لوگ تاریکی اور نفسانی ظلمتوں میں مبتلا ہیں اگر وہ دنیا کے تمام فلسفہ اور طبعی کے جامع بھی ہوں تب بھی میری نگاہ میں ایک مرے ہوئے کیڑے سے ان کی زیادہ وقعت نہیں مگر آپ اُس مرتبہ علم کے آدمی بھی نہیں۔صرف پورا نے خیالات کے ایک خشک ملا ہیں اور وہی کمینگی جو تاریک خیال ملاؤں میں ہوا کرتی ہے آپ کے اندر موجود ہے اور آپ کو یاد ہے کہ اکثر میرے پاس ایسے محقق اور جامع فنون اور معلومات وسیع رکھنے والے آتے اور اسرار معارف سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں کہ اگر میں ان کے مقابل پر آپ کو طفلِ مکتب بھی کہوں تو اس قدر کلمہ سے بھی آپ کو وہ عزت دوں گا جس کے آپ مستحق نہیں۔اب بھی اگر آپ کی قوت واہمہ فرو ہونے میں نہ آوے اور بدظنی کے جذبات کم نہ ہوں تو پھر میں خدا تعالیٰ کی مدد اور رحمت سے آپ کے مقابل پر تقریر کرنے کو بھی حاضر ہوں۔میں باعث بیماری اب کوئی سفر دور دراز تو نہیں کر سکتا لیکن اگر آپ راضی ہوں تو اپنے کرایہ سے لاہور جیسے پنجاب کے صدر مقام میں آپ کو اس کام اور اس امتحان کے لئے تکلیف دے سکتا ہوں اور یہ عہد عزم پختہ سے کرتا ہوں اور آ کے جواب کا منتظر ہوں۔قوله شخص محض نالائق ہے علمی لیاقت نہیں رکھتا۔اقول اے حضرت ! مجھے دنیا کی کسی حکمت اور دانائی کا دعویٰ نہیں۔اس جہاں کی دانائیوں اور چالاکیوں کو میں کیا کروں کہ وہ روح کو منور نہیں کرسکتیں۔اندرونی غلاظتوں کو وہ دھو نہیں سکتیں۔عجز اور خاکساری کو پیدا نہیں کرسکتیں بلکہ زنگ پر زنگ چڑھاتی اور کفر پر کفر بڑھاتی ہیں۔میرے لئے یہ بس ہے کہ عنایت الہی نے میری جلد سوم