حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 398
حیات احمد ۳۹۸ برہمو میں شامل ہوئے ان کا طریق اختیار کیا۔لیکن وہاں بھی مزا نہ پایا۔نیچری بنے لیکن اندرونی صفائی یا خدا کی محبت۔کچھ نورانیت کہیں بھی نظر نہ آئی۔آخر مرزا صاحب سے ملے اور بہت بیبا کا نہ پیش آئے۔مگر مرزا صاحب نے لطف سے مہربانی سے کلام کیا۔اور ایسا اچھا نمونہ دکھایا کہ آخر کا ر اسلام پر پورے پورے جم گئے اور نمازی بھی ہو گئے اللہ اور رسول کے تابعدار بن گئے آپ مرزا صاحب کے بڑے معتقد ہیں۔رات کو مرزا صاحب نے نواب صاحب کے مقام پر بہت عمدہ تقریر کی اور چند اپنے خواب اور الہام بیان فرمائے چند لوگوں نے صداقت الہام کی گواہیاں دیں جن کے روبرو وہ الہام پورے ہوئے۔ایک صاحب نے صبح کو بعد نماز صبح عبداللہ صاحب غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک خواب سنایا۔جبکہ عبداللہ صاحب خیر دی گاؤں میں تشریف رکھتے تھے۔عبداللہ صاحب نے فرمایا۔ہم نے محمد حسین بٹالوی کو ایک لمبا کرتا پہنے دیکھا۔اور وہ کر تہ پارہ پارہ ہو گیا۔یہ بھی عبداللہ صاحب نے فرمایا تھا کہ کرتے سے مراد علم ہے آگے پارہ پارہ ہونے سے عقلمند خود سمجھ سکتا ہے کہ گویا علم کی پردہ دری مراد ہے جو آج کل ہو رہی ہے اور معلوم نہیں کہ کہاں تک ہوگی جو اللہ تعالیٰ کے ولی کوستا تا ہے گویا اللہ تعالیٰ سے لڑتا ہے۔آخر چھپڑے گا۔اب مجھے بخوبی ثابت ہوا کہ وہ لوگ بڑے بے انصاف ہیں۔جو بغیر ملاقات اور گفتگو کے مرزا صاحب کو دور سے بیٹھے دجال، کذاب بنا رہے ہیں اور ان کے کلام کے غلط معنی گھڑ رہے ہیں یا کسی دوسرے کی تعلیم کو بغیر تفتیش مان لیتے ہیں اور مرزا صاحب سے اس کی بابت تحقیق نہیں کرتے۔مرزا صاحب جو آسمانی شہد اگل رہے ہیں اس کو وہ شیطانی زہر بتاتے ہیں اور بسبب سخت قلبی اور حجاب عداوت کے دور ہی سے گلاب کو پیشاب کہتے ہیں۔اور عوام اپنے خواص کے تابع ہو کر اس کے کھانے پینے سے باز رہتے ہیں۔اور اپنا نواب صاحب ملیر کوٹلہ جو اس وقت مع چند اپنے ہمراہیوں کے شریک جلسہ تھے۔جلد سوم