حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 397
حیات احمد ۳۹۷ سے پہلے قادیاں میں پہنچا اس وقت مولوی حکیم نورالدین صاحب مرزا صاحب کی تائید میں بیان کر رہے تھے اور قریب ختم تھا۔افسوس کہ میں نے پورا نہ سنا۔لوگوں سے سنا کہ بہت عمدہ بیان تھا۔پھر حامد شاہ صاحب نے اپنے اشعار مرزا صاحب کی صداقت اور تعریف میں پڑھے لیکن چونکہ مجھے ہنوز رغبت نہیں تھی اور میرا دل غبار آلودہ تھا کچھ شوق اور محبت سے نہیں سنا۔لیکن اشعار عمدہ تھے۔اللہ تعالیٰ مصنف کو جزائے خیر عطا فرمادے۔جب میں مرزا صاحب سے ملا اور وہ اخلاق سے پیش آئے تو میرا دل نرم ہوا گویا مرزا صاحب کی نظر سرمہ کی سلائی تھی جس سے غبار کدورت میرے دل کی آنکھوں سے دور ہو گیا۔اور غیظ و غضب کے نزلہ کا پانی خشک ہونے لگا اور کچھ کچھ دھندلا سا مجھے حق نظر آنا شروع ہوا اور رفتہ رفتہ باطنی بینائی درست ہوئی۔مرزا صاحب کے سوا اور کئی بھائی اس جلسہ میں ایسے تھے کہ جن کو میں حقارت اور عداوت سے دیکھتا تھا۔اب ان کو محبت اور الفت سے دیکھنے لگا اور یہ حال ہوا کہ گل اہلِ جلسہ میں جو مرزا صاحب کے زیادہ محبت تھے وہ مجھے بھی زیادہ عزیز معلوم ہونے لگے۔بعد عصر مرزا صاحب نے کچھ بیان فرمایا جس کے سننے سے میرے تمام شبہات رفع ہو گئے اور آنکھیں کھل گئیں۔دوسرے روز صبح ایک امرتسری وکیل صاحب نے اپنا عجیب قصہ سنایا۔جس سے مرزا صاحب کی اعلیٰ درجہ کی کرامت ثابت ہوئی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ وکیل صاحب پہلے سنت جماعت مسلمان تھے۔جب جوان ہوئے رسمی علم پڑھا تو دل میں بہ سبب مذہبی علم سے ناواقفیت اور علمائے وقت و پیران زمانہ کے باعمل نہ ہونے کے شبہات پیدا ہوئے اور تسلی بخش جواب کہیں سے نہ ملنے کے باعث سے چند بار مذہب تبدیل کیا۔سنی سے شیعہ بنے۔وہاں بجز تبرا بازی ، اور تعزیہ سازی کچھ نظر نہ آیا۔آریہ ہوئے چند روز وہاں کا بھی مزا چکھا۔مگر لطف نہ آیا۔جلد سوم