حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 394 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 394

حیات احمد ۳۹۴ وو اب جلسہ کے ایام میں جو کارروائیاں ہوئیں ان کا ہم ذکر کرتے ہیں۔پہلے حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب نے قرآنِ شریف کی ان آیات کریم کی تفسیر بیان کی جس میں یہ ذکر ہے کہ مریم صدیقہ کیسی صالحہ اور عفیفہ تھیں اور اُن کے برگزیدہ فرزند حضرت عیسی علیہ السلام پر کیا کیا خدا تعالیٰ نے احسان کیا اور کیونکر وہ اس فانی دنیا سے انتقال کر کے اور سنت اللہ کے موافق موت کا پیالہ پی کر خدا تعالیٰ کے اُس دار النعیم میں پہنچ گئے جس میں ان سے پہلے حضرت یحیی حصور اور دوسرے مقدس نبی پہنچ چکے تھے اس تقریر کے ضمن میں مولوی صاحب موصوف نے بہت سے حقائق و معارف قرآن کریم بیان فرمائے جن سے حاضرین پر بڑا اثر پڑا اور مولوی صاحب نے بڑی صفائی سے اس بات کا ثبوت دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام در حقیقت اس عالم سے رحلت فرما ہو گئے ہیں۔اور اُن کے زندہ ہونے کا خیال عبث اور باطل اور سراسر مخالف نصوص بینہ قرآنِ کریم و احادیث صحیحہ ہے اور اُن کے نزول کی امید رکھنا طمع خام ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اگر چہ بہت سی حدیثوں میں نزول کی خبر دی گئی ہے مگر وہ نزول اور رنگ میں ہے۔یعنی تجوز اور استعارہ کے طور پر نزول ہے نہ حقیقی نزول کیونکہ حقیقی نزول تو نصوص صریحہ ہینہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ سے مخالف پڑا ہوا ہے جس کی طرف قدم اٹھانا گویا خدا تعالیٰ کی خبر میں شک کرنا ہے مولوی صاحب کے وعظ کے بعد سید حامد شاہ صاحب سیالکوٹی نے ایک قصیدہ مدحیہ سنایا۔اس تقریر کے بعد حضرت اقدس مرزا صاحب کی مختصر تقریر تھی جس میں علماء حال کی چند اُن باتوں کا جواب دیا گیا جو اُن کے نزدیک بنیاد تکفیر ہیں اور اسی کے ساتھ اپنے مسیح موعود ہونے کا آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے ثبوت دیا گیا اور حاضرین کو اُس پیشگوئی کے پورا ہو جانے سے اطلاع دی گئی جو پر چہ نور افشاں دہم مئی ۱۸۸۸ء میں شائع ہوئی تھی اور مختلف وقتوں میں حجت پوری کرنے کے لئے سمجھا دیا گیا کہ اس جلد سوم