حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 385
حیات احمد ۳۸۵ جلد سوم والے یعنی مولوی اور محدث اور فقیہ ان تمام لوگوں سے بدتر ہوں گے جو روئے زمین پر رہتے ہوں گے۔پھر ایک اور حدیث میں ہے کہ وہ قرآن پڑھیں گے اور قرآن ان کے حنجروں کے نیچے نہیں اترے گا۔یعنی اُس پر عمل نہیں کریں گے۔ایسا ہی اس زمانہ کے مولویوں کے حق میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں مگر اس وقت ہم بطور نمونہ اس حدیث کا ثبوت دیتے ہیں جو غلط فتووں کے بارے میں ہم اوپر لکھ چکے ہیں تا ہر ایک کو معلوم ہو کہ آج کل اگر مولویوں کے وجود سے کچھ فائدہ ہے تو صرف اس قدر کہ ان کے یہ لچھن دیکھ کر قیامت یاد آتی ہے۔اور قرب قیامت کا پتہ لگتا ہے اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی کی پوری پوری تصدیق ہم بچشم خود مشاہدہ کرتے ہیں۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ چونکہ سال گزشتہ میں بمشورہ اکثر احباب یہ بات قرار پائی تھی کہ ہماری جماعت کے لوگ کم سے کم ایک مرتبہ سال میں جو بہ نیت بقیہ حاشیہ۔چکے اور اسلام کی کچی اور صحیح تعلیم سے اب تک بے خبر ہیں۔سو بھائیو! یقیناً سمجھو کہ یہ ہمارے لئے جماعت تیار ہونے والی ہے۔خدا تعالیٰ کسی صادق کو بے جماعت نہیں چھوڑتا انشاء اللہ القدر سچائی کی برکت ان سب کو اس طرف کھینچ لائے گی۔خدا تعالیٰ نے آسمان پر یہی چاہا ہے۔اور کوئی نہیں کہ اس کو بدل سکے۔سولا زم ہے کہ اس جلسہ پر جو کئی بابرکت مصالح پر مشتمل ہے ہر ایک ایسے صاحب ضرور تشریف لائیں جو زادِ راہ کی استطاعت رکھتے ہوں۔اور اپنا سرمائی بستر لحاف وغیرہ بھی بقدر ضرورت ساتھ لاویں۔اور اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں ادنی ادنیٰ درجوں کی پرواہ نہ کریں۔خدا تعالیٰ مخلصوں کو ہر یک قدم پر ثواب دیتا ہے اور اس کی راہ میں کوئی محنت اور صعوبت ضائع نہیں ہوتی اور مکر رکھا جاتا ہے کہ اس جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں۔یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلاء کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لئے قو میں تیار کی ہیں۔جو عنقریب اس میں آملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے۔جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔عنقریب وہ وقت آتا ہے بلکہ نزدیک ہے کہ اس مذہب میں نہ نیچریت کا نشان رہے گا اور نہ نیچر کی تفریط پسند اوہام پرست مخالفوں کا نہ خوارق کے انکار والے باقی رہیں گے۔اور نہ ان میں بے ہودہ اور بے اصل اور مخالف قرآن روایتوں کو ملانے والے۔