حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 342
حیات احمد ۳۴۲ جلد سوم مولوی عبد الحکیم کلانوری سے مباحثہ لاہور میں کسی عالم کو آپ کے مقابلہ کی ہمت نہ ہوئی مولوی محمد حسین صاحب کے حالات سے تو لوگ واقف تھے اور ان کے ابتدائی زمانہ اہل حدیث کے اکا بر اُن سے الگ ہو چکے تھے اور چینیا نوالی مسجد سے ان کو الگ کر دیا تھا۔اب وہ لسوڑھے والی ایک مسجد میں رہتے تھے ان دنوں انہوں نے مسجد وزیر خاں میں ایک جلسہ کیا میں اس جلسہ میں موجود تھا۔حنفی تو ان سے متنفر ہی تھے اور اہل حدیث کو بھی ان سے دلچسپی نہ تھی اس مسجد کی تولیت سرمرزا ظفر علی صاحب کے خاندان میں تھی۔مرزا ظفر علی اور ان کے محترم بھائی حضرت مرزا ناصر علی میرے کلاس فیلو تھے جنہوں نے آخر احمدیت کو قبول کیا اور فیروز پور کی جماعت کے امیر رہے۔نہایت متقی اور بے ریا خلوص رکھنے والے بزرگ تھے غرض مولوی صاحب کے اس جلسہ میں کچھ لوگ کشمیری بازار اور چوک وزیر خاں کے جمع تھے مولوی صاحب ممبر کے پاس کھڑے ہو کر توضیح مرام وغیرہ پر اعتراض کرنے لگے۔لوگوں نے کچھ توجہ نہ کی اور عام طور پر کہتے تھے کہ لودھانہ میں مباحثہ میں ہار کر آیا ہے اور اب کفر کا فتویٰ دیتا ہے بہ مشکل آدھ گھنٹہ مجمع رہا اور منتشر ہو گیا۔مگر جیسے دہلی میں کسی کو مباحثہ کی ہمت نہ ہوئی۔یہاں مولوی عبداللہ صاحب ٹو کی۔مولوی غلام محمد بگوئی اور مولاوی غلام احمد علی بھیروی (جو ! حضرت خلیفہ ایسی اول کے عزیزوں میں سے تھے ) موجود تھے مگر آگے نہ تو مباحثہ کے لئے آئے اور نہ آسمانی فیصلہ کے ذریعہ فیصلہ چاہا۔بحث کا موضوع اس موقعہ کو عبدالحکیم صاحب کلانوری نے غنیمت سمجھا اور وہ غیر مشروط طور پر حضرت کے مکان پر مباحثہ کے لئے تشریف لے آئے یہ دراصل باشندے تو کلانور کے تھے مگر الور (راجستھان) میں رہتے تھے۔بحث کا موضوع وہی توضیح المرام کا مقام (محدث ایک معنے سے نبی ہوتا ہے ) تھا۔یاد رہے کہ میں یہ واقعات اپنے حافظہ کی بناء پر کہہ رہا ہوں اس لئے کہ اس