حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 303
حیات احمد ایسا ہی کافر اور دجال اور دشمن دین ہوں تو خدائے تعالیٰ اس مقابلہ میں ہرگز میری تائید نہیں کرے گا بلکہ اپنی تائیدوں سے مجھے بے بہرہ رکھ کر ایسا رسوا کرے گا کہ جیسا اتنے بڑے کذاب کی سزا ہونی چاہئے اور اس صورت میں اہلِ اسلام میرے شر سے بچ جائیں گے اور تمام مسلمان میرے فتنہ سے امن میں آ جائیں گے لیکن اگر کرشمہ قدرت یہ پیدا ہوا کہ خود میاں نذیر حسین اور ان کی جماعت کے لوگ بٹالوی وغیرہ تائید کے نشانوں میں مخذول و مہجور رہے اور تائید الہی میرے شامل حال ہوگئی تو اِس صورت میں بھی لوگوں پر حق کھل جائے گا اور روز کے جھگڑوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔اب جاننا چاہیے کہ خدائے تعالیٰ نے قرآن کریم میں چار عظیم الشان آسمانی تائیدوں کا کامل متقیوں اور کامل مومنوں کے لئے وعدہ دیا ہے اور وہی کامل مومن کی شناخت کے لئے کامل علامتیں ہیں اور وہ یہ ہیں اول یہ کہ مومن کامل کو خدا تعالیٰ سے اکثر بشارتیں ملتی ہیں یعنی پیش از وقوع خوشخبریاں جو اُس کی مرادات یا اُس کے دوستوں کے مطلوبات ہیں اس کو بتلائی جاتی ہیں۔دوئم یہ کہ مومن کامل پر ایسے امور غیبیہ کھلتے ہیں جو نہ صرف اُس کی ذات یا اس کے واسطے داروں سے متعلق ہوں بلکہ جو کچھ دنیا میں قضا و قدر نازل ہونے والی ہے یا بعض دنیا کے افراد مشہورہ پر کچھ تغیرات آنے والے ہیں اُن سے برگزیدہ مومن کو اکثر اوقات خبر دی جاتی ہے۔سیوم یہ کہ مومن کامل کی اکثر دعائیں قبول کی جاتی ہیں اور اکثر اُن دعاؤں کی قبولیت کی پیش از وقت اطلاع بھی دی جاتی ہے۔چہارم یہ کہ مومن کامل پر قرآن کریم کے دقائق و معارف جدیده و لطائف و خواص عجیبه سب سے زیادہ کھولے جاتے ہیں۔ان چاروں علامتوں سے مومن کامل نسبتی طور پر دوسروں پر غالب رہتا ہے اور اگر چہ دائمی طور پر یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے کہ ہمیشہ مومن کامل کو منجانب اللہ بشارتیں ہی ملتی رہیں یا ہمیشہ بلا تخلف ہر ایک دعا اس کی منظور ہی ہو جایا کرے اور نہ یہ کہ ہمیشہ ہر جلد سوم