حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 285
حیات احمد ۲۸۵ جلد سوم ایک عظیم الشان کتب خانہ ہے۔الماریاں۔صندوق۔طاق۔فرش زمین سے چھت تک مکان بھرا پڑا ہے۔اور کچھ لوگ اور بھی کتابیں لے رہے ہیں اور مولوی صاحب عشاء کی نماز ادا کر کے وظیفہ پڑھ رہے ہیں۔نعمانی۔السلام علیکم۔مولوی صاحب نے وعلیکم السلام کہ کر اشارہ سے کہا کہ بیٹھ جائے۔نعمانی۔ہم دونوں بیٹھ گئے مولوی صاحب اشارہ سے تھوڑا وظیفہ ہے ختم کرلوں۔نعمانی دل میں خوف کا دھڑ کا پیدا تھا کہ مبادا ایسے آدمی بھی آجاویں جو ہم کو پہچان لیں اور غل مچادیں کہ یہ تو مرزائی ہے اور اس پر کتابیں نہ ملیں۔مولوی صاحب کا خدا خدا کر کے وظیفہ ختم ہوا نعمانی نے جھٹ پٹ وہ رقعہ حاجی صاحب کا دیا۔مولوی صاحب حاجی صاحب کا رقعہ پڑھ کر۔آپ کب سے صاحبزادہ صاحب دہلی تشریف لائے آپ کے والد اور دادا رحمتہ اللہ علیہ تو اکثر دہلی میں تشریف رکھا کرتے تھے آپ تو دہلی میں کم آتے ہیں نعمانی دو چار روز سے دہلی میں آیا ہوں۔مولوی صاحب کیا آپ کو بھی بحث مباحثہ کا شوق ہے نعمانی ہاں خوب شوق ہے مولوی صاحب مرزا صاحب بھی تو قادیان سے آئے ہوئے ہیں کل کو مرزا صاحب اور مولوی بشیر میں مباحثہ ہے شاید مولوی سلیم الدین خاں اس وقت یہ سمجھے کہ یہ (یعنی راقم ) بھی مرزا صاحب کے خلاف بحث کرے گا وَ اللهُ أَعْلَمُ۔نعمانی۔ہاں کل دونوں صاحبوں کا مباحثہ ہے۔مولوی صاحب کچی بات تو یہ ہے کہ مولوی محمد بشیر مولوی ہیں مگر جناب مرزا صاحب کے مقابلہ کے نہیں ہیں۔زمین و آسمان کا فرق ہے۔مرزا صاحب کی تحریریں میں نے دیکھی ہیں بڑی زبر دست تحریر ہے۔صاحبزادہ صاحب تم ابھی صاحبزادہ ہو۔مرزا صاحب سے ہرگز ہرگز مباحثہ نہ کر بیٹھناتم کیا ، مولوی بشیر کیا، کوئی عالم آج میرے ذہن میں اُن کا مقابل نہیں۔نعمانی دل میں کہا کہ واقعی بات تو سچ کہتے ہیں ایک زمینی اور کہاں آسمانی کیسے چوں مہربانی می کند ☆ از زمینی آسمانی می کند ترجمہ۔جب وہ (اللہ تعالیٰ ) کسی پر مہربان ہوتا ہے، اسے اہل زمین سے اٹھا کر اہل آسمان میں سے بنا دیتا ہے۔